خبیرپختونخوا کی عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا: وزیراعظم شہباز شریف

 خبیرپختونخوا کی عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا: وزیراعظم شہباز شریف

ویب ڈیسک: پشاور میں امن و امان کی صورتحال پر جرگہ، وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا خبیرپختونخوا کی عوام نے ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں، خبیرپختونخوا غیور اور دلیر عوام کی سرزمین ہے، خبیرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے، خبیرپختونخوا  کے عوام نے 1947 کے ریفرنڈم میں پاکستان کا ساتھ دیا، قبائلی عوام کی قربانیوں کو تاریخ نہیں بھلا پائے گی،ہم بیٹھ کر کے پی کے کے معاملات کو دیکھیں گے، علی امین گنڈا پور سے کہا ہے یہ معاملات دیکھنے کے لئے کمیٹی بنادوں گا۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا ہے وہ قیامت تک یاد رکھے گا، اب معاشی میدان میں بھی پاکستان کی تقدیر بدلیں گے جس کے لیے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔

پشاور میں گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی شب حملہ کرکے پاکستان کے معصوم شہریوں کو شہید کیا، جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا۔

گرینڈ جرگے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور دیگر شخصیات شریک تھیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ بھارت نے اب اگر کوئی حماقت کی تو پھر منہ توڑ جواب ملے گا، مودی سرکار اپنی شکست کے زخم چاٹ رہی ہے اور ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

شہباز شریف نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ تاریخ میں یہاں کے عوام کا نام سنہری حروف میں لکھا جائےگا،2016 میں پشاور میں اے پی ایس کا واقعہ ہوا ، بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا گیا، جب بھی پاکستان کی بات آئی آپ نے سب اختلافات بھلا کرملک کا سبزہلالی جھنڈا بلند کیا، ملک کی 77 سالہ تاریخ میں خبرپختونخوا کی عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں، تاریخ انہیں کبھی بھلا نہیں پائے گی۔ 

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور بڑی قربانیاں دی ہیں۔ آج جرگے میں یہاں کے عمائدین اور مشران نے جو تجاویز دی ہیں ان پر مل کر فیصلے کرنا ہوں گے، اے پی ایس سانحہ کے بعد دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا، 

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تجویز دی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے کو دوبارہ دیکھنا چاہیے، ہم اگست میں این ایف سی کے حوالے سے پہلی میٹنگ کرنے جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پہلا نکتہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف وسائل کی فراہمی ہے، مختلف ادوار میں 700 ارب روپے خیبرپختونخوا کو دیے گئے، اور دہشتگردی کے خاتمے تک فنڈز کی فراہمی کا یہ سلسلہ جاری رہےگا۔

انہوں نے کہاکہ علی امین گنڈاپور سے کہا ہے کہ آپ کے مسائل کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے رہا ہوں۔ ہم مل بیٹھ کر خیبرپختونخوا کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھیں گے اور ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی خوشحالی کے حوالے سے فیصلے کرنے ہیں، یہ فیصلہ بھی کرنا ہے کہ ہم کیسے پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھا سکتے ہیں۔ پانی کے معاملے پر ہمیں فیصلہ کرنا ہے، جسے کے لیے چاروں صوبوں کو دعوت دیں گے،

بھارت دن رات پاکستان کیلئے پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے،  پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستان عوام کا حق ہے، بھارت نے دوبارہ کوئی حرکت کی تو اسے سبق سیکھائیں گے۔

Watch Live Public News