(ویب ڈیسک ) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی کا نیا عہدہ لینے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے اہم فیصلے سے متعلق حکم جاری کر دیا تھا۔ بانی نے بیرسٹر گوہر کو پارٹی کی چیئرمین شپ سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیے تھے، بانی کی جانب سے یہ احکامات پارٹی کے وکلاء کو باقاعدہ نوٹ کروا دیے تھے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو عہدے سے ہٹا کر خود چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا،بانی نے جب اپنے فیصلے سے وکلاء کو آگاہ کیا تو اسی دوران بیرسٹر گوہر بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر کو جب اس بات کا اندازہ ہوا تو وہ بانی پی ٹی آئی کو سائیڈ پر لے گئے، بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کو پارٹی کے عہدوں کے متعلق آئین اور قانون کے مطابق بریف کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے بانی کو بتایا کہ ہمارا پارٹی کا کیس عدالت میں ہے ہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، میرا پارٹی سے عہدہ ختم ہو گا تو پوری پارٹی ختم ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق قانونی طور پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کا عہدہ آج بھی عمر ایوب کے پاس ہے، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر آج بھی علی امین گنڈاپور ہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بطور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، اور کے پی کے صدر جنید اکبر کا نوٹیفکیشن آج تک جاری نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی میں جن سینئر عہدیداروں کو الیکشن کے بعد تبدیل کیا گیا ان کے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کئے گئے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی عہدے تبدیل ہونے سے پارٹی کا سیمبل اور نشستیں قانون کے مطابق ختم ہو سکتی ہیں،جس کے بعد بانی پی ٹی آئی نے بیرسٹر گوہر کو تبدیل کرنے کے بجائے خود کو پیٹرن ان چیف کا عہدہ دے دیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور کو احتجاج کے رول سے بھی الگ کر دیا، بانی پی ٹی آئی نے ان کی جگہ یہ رول عمر ایوب اور سلمان اکرام راجا کے سپرد کیا۔