ویب ڈیسک: ایران میں مبینہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہونے والی 180 کمسن طالبات کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ سوگوار فضا میں بچیوں کو سپردِ خاک کر دیا گیا جبکہ جنازے کے دوران امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ مناب میں ایک پرائمری اسکول پر بمباری کے نتیجے میں پیش آیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر قبروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا جہاں صرف طالبات موجود تھیں۔
These are graves being dug for more than 160 innocent young girls who were killed in the US-Israeli bombing of a primary school. Their bodies were torn to shreds.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 2, 2026
This is how "rescue" promised by Mr. Trump looks in reality.
From Gaza to Minab, innocents murdered in cold blood. pic.twitter.com/cRdJ3BELOn
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی عوام کو “ریسکیو” کرنے کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وعدے کی حقیقت ان قبروں سے عیاں ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ غزہ سے مناب تک شہریوں کی ہلاکتیں امریکا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں۔