ویب ڈیسک: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی ملک کے معاشی استحکام کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت ٹیکس، توانائی اور پنشن سمیت مختلف شعبوں میں بنیادی اصلاحات لا رہی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ بھی معاشی بہتری کی توثیق ہے، جب کہ پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد معیشت پر مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق، ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ پنشن ریفارمز اور رائٹ سائزنگ بھی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں، تاکہ سرکاری اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں، چیئرمین ایف بی آر
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ بجٹ میں منظور ہونے والے ٹیکس اقدامات پر عمل جاری ہے اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دہندگان کی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوچکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کو مزید نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ موجودہ نظام کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی، وزیر توانائی اویس لغاری
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ گردشی قرض میں کمی کے لیے 1200 ارب روپے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں اور ایک سال کے دوران گردشی قرض میں 700 ارب روپے کمی لائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے اہم پیش رفت کی ہے اور اب حکومت براہِ راست بجلی نہیں خریدے گی۔
اویس لغاری کے مطابق گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 10 فیصد کمی آئی ہے جبکہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پری پیڈ میٹرنگ کے ذریعے صارفین کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور تکنیکی اصلاحات سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔
حکومت نجکاری عمل میں شفافیت یقینی بنا رہی ہے: مشیر نجکاری
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی میں اداروں کی نجکاری نہ ہونے کی بڑی وجہ سیاسی عزم کی کمی تھی، تاہم موجودہ حکومت اس عمل کو تیزی اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فرسٹ ویمن بینک 5 ارب روپے میں فروخت کیا گیا اور اب پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار بڑے گروپس — فوجی فاؤنڈیشن، ایئربلیو، لکی سیمنٹ اور عارف حبیب گروپ — شامل ہیں۔
مشیر نجکاری کے مطابق، آئسکو، لیسکو اور فیسکو سمیت ڈسکوز کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ سرکاری اداروں کو مالی بوجھ سے نجات دی جا سکے۔
54 ہزار خالی اسامیاں ختم کر دی گئیں: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے رائٹ سائزنگ سلمان احمد نے بتایا کہ 20 وزارتیں رائٹ سائزنگ کے عمل سے گزر چکی ہیں اور 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں، خصوصاً پاسکو جیسے محکموں کے مستقبل پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ قومی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔