غزہ امن معاہدہ:ٹرمپ کے پیش کردہ20نکات من وعن ہمارے نہیں،اسحاق ڈار

غزہ امن معاہدہ:ٹرمپ کے پیش کردہ20نکات من وعن ہمارے نہیں،اسحاق ڈار
کیپشن: غزہ امن معاہدہ:ٹرمپ کے پیش کردہ20نکات من وعن ہمارے نہیں،اسحاق ڈار

ویب ڈیسک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکات وہ نہیں جو مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر تجویز کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں صرف جنگ بندی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی تھی، جس کے بعد 8 مسلم ممالک نے مل کر ایک ڈرافٹ تیار کیا اور 20 نکات پر مشتمل بیان جاری کیا۔ تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے جو نکات پیش کیے، وہ من وعن ہمارے نکات نہیں بلکہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دفتر خارجہ اس معاملے پر پہلے ہی وضاحت دے چکا ہے اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کی توجہ اپنے مشترکہ ڈرافٹ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے بعد تعمیر نو کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ یہ کسی ایک ملک کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں اور پاکستان کی پالیسی وہی ہے جو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اختیار کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی موجودہ صورتحال افسوسناک ہے جہاں لوگ بھوک اور افلاس کے باعث جانیں گنوا رہے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے اس بحران کو حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے صمود فلوٹیلا کے حالیہ واقعے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس فلوٹیلا میں پاکستان کے ایک سینیٹر بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ یا تعلق نہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے 22 کشتیاں تحویل میں لے لیں اور ان میں موجود افراد کو گرفتار کرلیا جن میں سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل ہیں۔

اسحاق ڈار نے چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ تعلق مضبوط رہے گا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے، اور دہائیوں سے چلے آرہے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

Watch Live Public News