ویب ڈیسک: بجلی استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے، کیونکہ آنے والے مہینوں میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مالی سال 2024-25 کی چوتھی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) کو باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے جس پر نیپرا اتھارٹی آج سماعت کرے گی۔
سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں فی یونٹ ایک روپے پچھتر پیسے کمی کی تجویز پیش کی ہے جو منظوری کی صورت میں عام صارفین کے لیے خاطر خواہ مالی ریلیف کا سبب بن سکے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا درخواست منظور کرتا ہے تو اس سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت تمام سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس کمی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اندازہ ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں مجموعی طور پر صارفین کو تین ماہ کے دوران 53 ارب انتالیس کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف مل سکتا ہے۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر نیپرا اتھارٹی ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے لیے پیش کی گئی ایڈجسٹمنٹ کو منظور کرتی ہے تو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں دو روپے دس پیسے تک کی کمی ممکن ہے، جبکہ اگست، ستمبر اور اکتوبر کے لیے فی یونٹ ایک روپے پچھتر پیسے کی کمی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ کمی صارفین کے ماہانہ بجلی بلوں میں نمایاں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے موقع پر جب مہنگائی کے باعث عوام شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ بجلی کے نرخوں میں کسی بھی قسم کی کمی جہاں گھریلو صارفین کے لیے ریلیف کا سبب بنتی ہے، وہیں صنعتی و تجارتی شعبے کو بھی معاونت فراہم کرتی ہے جس سے کاروباری لاگت میں کمی اور پیداواری عمل میں تیزی آ سکتی ہے۔
نیپرا حکام کے مطابق درخواست پر حتمی فیصلہ عوامی سماعت مکمل ہونے اور تمام فریقین کے مؤقف کے جائزے کے بعد جاری کیا جائے گا۔