ویب ڈیسک: (علی زیدی) اسرائیل کے تقریباً 600 سابق اعلیٰ سیکیورٹی افسران، جن میں موساد اور شِن بیت کے سابق سربراہان بھی شامل ہیں، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ کی جنگ فوری طور پر ختم کی جائے۔
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو غزہ میں فوجی کارروائیوں میں توسیع پر غور کر رہے ہیں، جبکہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کے بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ"یہ ہمارا پیشہ ورانہ تجزیہ ہے کہ اب حماس اسرائیل کے لیے کوئی تزویراتی خطرہ نہیں رہی۔"
سابق سیکیورٹی حکام نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ اسرائیل میں اپنی مقبولیت اور اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے نیتن یاہو کو "جنگ ختم کرنے، یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ میں انسانی المیے کو روکنے" کے لیے قائل کریں۔
یہ مطالبہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں حماس اور اسلامی جہاد نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی ویڈیوز جاری کیں جن میں وہ شدید کمزوری اور بھوک کا شکار نظر آئے۔ ان ویڈیوز پر اسرائیل سمیت عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بھرپور فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ غذائی قلت اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث 180 افراد، جن میں 93 بچے بھی شامل ہیں، بھوک سے جان گنوا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں "قحط کا بدترین منظرنامہ حقیقت بن چکا ہے"۔ اسرائیل کو عالمی سطح پر تنقید اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، اور کئی ممالک میں عوامی رائے اسرائیل کے خلاف بڑھتی جا رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم ایہود باراک، سابق دفاعی وزیر موشے یعلون، موساد کے سابق سربراہ تمیر پارڈو اور شِن بیت کے سابق چیف امی آیالون سمیت دیگر رہنماؤں نے خط میں لکھا کہ"ابتداء میں یہ جنگ دفاعی اور جائز تھی، لیکن جب تمام فوجی مقاصد حاصل ہو چکے تو یہ جنگ اپنی اخلاقی حیثیت کھو چکی ہے۔"
خط میں ٹرمپ کو یاد دلایا گیا کہ انہوں نے ماضی میں لبنان میں جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا تھا، اس لیے اب وقت ہے کہ وہ غزہ میں بھی ایسا ہی اقدام کریں۔
اس خط نے اسرائیلی سیاست اور سیکیورٹی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا فوجی طاقت سے یرغمالیوں کی بازیابی ممکن ہے یا اب سفارتی راستہ اختیار کرنا بہتر ہوگا۔