ویب ڈیسک: مذاکرات کے دوران عمران خان کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے کے علی امین گنڈا پور کے بیان پر خواجہ آصف نے کہا پی ٹی آئی کی لیڈرشپ 99 فیصد جھوٹ بولتی ہے تاکہ ورکرز کی امیدیں بندھی رہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور جو بات کرتے ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہورہا ہے۔
خواجہ آصف نے علی امین گنڈا پور کے بیان کی نفی کرتے ہوئے کہا ایسی کوئی بات نہیں، کیونکہ جو خط آرمی چیف کو لکھا گیا ہے وہ ایک اپیل ہے، 6 نکات کوئی مختلف نہیں بانی پی ٹی آئی پہلے بھی یہی گفتگو کرتے تھے، کسی بھی اسٹیج پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی کی اپنی خواہش ہوسکتی ہے کہ نتھیا گلی بھیج دیں، فلاں جگہ بھیج دیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی کا جس نے بھی ساتھ دیا وہ ان کے خلاف ہوگئے،یہ انکی سیاسی زندگی کا پیٹرن ہے، جنرل مشرف سے شروع ہوا اور اسی کے خلاف ہوگیا، 2009 تک ہمارے ساتھ چلتا رہا بعد میں ہمارے خلاف ہوگیا، پیپلزپارٹی کے ساتھ تعلق ٹھیک ہوا اور بعد میں ان کے خلاف ہوگیا، جنرل باجوہ کا بڑا سپورٹر تھا کہتے تھے اُن سے بہتر کوئی چیف نہیں ہوا پھر اُن کی منتیں کرنے لگ گئے سابق صدر عارف علوی گواہ ہیں۔
دو چیزیں ہیں ایک تو عمران خان پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا اور دوسرا جب اُن کو اقتدار سے نکال گیا تو ایسا رویہ اپنایا اور ملک پر حملہ کیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں پہلے بھی تبدیلیاں آئی ہیں کسی نے اتنا رونا نہیں ڈالا جتنا بانی پی ٹی آئی نے، عمران خان پراجیکٹ ہی اسٹیبلشمنٹ کا تھا، نواز شریف قابل اعتبار نہیں ہے اس لئے عمران خان کو تیار کرنا شروع کیا، 2013 میں ڈی چوک میں ٹرائل کرایا گیا جو کہ باقاعدہ ’ پلان ‘ کیا گیا تھا۔
4 سال کوئی کارگردگی نہیں دکھائی، بعدازاں جنرل فیض کو پرموٹ کرنا شروع کیا کہ یہ بانی پی ٹی آئی کے اقتدار کے ضامن ہوں گے۔