ویب ڈیسک:لوئرکرم میں گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق ٹل پاڑاچنار روڈ کو کلئیر کرنے سے پہلے ضلعی انتظامیہ اور فورسز گشت پر تھے کہ بگن کے مقام پر مقامی لوگوں نے سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے واقعے میں ڈپٹی کمشنر سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
زخمیوں میں جاوید اللہ محسود، میسال خان، رفیع اللہ، نور کلیم خان، رضوان اور شریف خان شامل ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے علیزئی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پر انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد امدادی سامان کے قافلے کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی ہے اور وہ واپس روانہ ہوگیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے علاقہ بگن میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان کےپی حکومت بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کو علیزئی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کرنے کے لئے بندوبست کیا جارہا ہے۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر قافلے کو فی الحال روکا گیا ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ کی شدید الفاظ میں مذمت:
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی زخمی ڈپٹی کمشنر کرم کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔
صدرمملکت کی فائرنگ واقعے پر اظہار مذمت:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے لوئر کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر مملکت نے کرم میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر عوام کے دشمن، فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔ عوام شرپسند عناصر کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دے۔
صدر مملکت نے ڈپٹی کمشنر سمیت فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی فائرنگ کے واقعے پر اظہار مذمت:
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لوئر کرم کے علاقے بگان میں سرکاری گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت زخمیوں کے لیے صحتیابی کی دعا کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ امن و امان میں خلل ڈالنے والوں اور انسانیت کے دشمنوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔
گورنرخیبرپخونخوا کی مذمت:
کرم میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی پر فائرنگ سے گورنر خیبرپختونخوا نے مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ قابل مذمت ہے۔ حملہ میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔ کرم میں امدادی قافلہ پر فائرنگ صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کی جلد صحت یابی کے لیئے دعا گو ہوں۔
بیرسٹر سیف کی اپنے زخمی ہونے کی تردید:
بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے حوالے سے چلنے والی خبریں درست نہیں ہے۔ میں محفوظ ہوں۔ زخمی نہیں ہوں۔ میں جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر موجود تھا۔ حملے میں ڈپٹی کمشنر زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صبح سے قافلے کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھا کہ یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر کے پاس موجود ہوں، کمشنر اور ڈی آئی جی سمیت دیگر اعلی حکام بھی موجود ہیں۔ حالات قابو میں ہیں سیکورٹی ادارے الرٹ ہیں۔ حملہ کرنے والے امن معاہدے کے دشمن ہیں۔ آج ایک بار علاقے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ حکومت ہر حال میں علاقے کی امن کو بحال کرے گی۔
علی امین گنڈاپور کی مذمت:
کرم کے علاقہ بگن میں سرکاری گاڑیوں کے قافلے پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے واقعہ کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذمت کی ہے۔
وزیر اعلی نے اعلی حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر اعلی نے فائرنگ کے نتیجے میں ڈی سی کرم اور دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کرم امن معاہدے کے بعد اس طرح کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ واقعہ کرم میں امن کے لئے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ اور مذموم لیکن ناکام کوشش ہے۔ فائرنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واقعہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے۔ صوبائی حکومت کرم میں امن کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ فریقین کے درمیان معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کرم کے لوگ پرامن ہیں اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں۔ کچھ شرپسند عناصر کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے، ان عناصر کی کوشیں کامیاب نہیں ہونگی۔ صوبائی حکومت اور علاقے کے لوگ مل کر ایسے شرپسند عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ علاقے کے لوگوں ان عناصر کی نشاندہی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ اس افسوسناک واقعے سے کرم میں امن کی بحالی کے لئے حکومت اور علاقہ عمائدین کی کوششیں متاثر نہیں ہونگی۔ صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کے تعاون سے علاقے میں مکمل امن کی بحالی تک کوششیں جاری رکھے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مذمت:
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرم میں سرکاری گاڑیوں پر حملے کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے زخمی ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کی صحتیابی کیلئے دعا کی ہے۔
اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں سے قوم کے جذبے ماند نہیں پڑیں گے- پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
ڈی آئی جی کوہاٹ کی مذمت:
ڈی آئی جی کوہاٹ عباس مجید نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ اور فائرنگ کرنا بزدلانہ اقدام ہے۔ علاقے میں کشیدگی پھیلانے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ زخمی ہونے والے تمام افراد محفوظ ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اور دیگر عملے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
اس سے قبل خبر آئی تھی کہ کرم میں امن معاہدے پر عملدرآمد کے بعد راستوں کی بندش ختم ہوگئی اور پہلا قافلہ اشیاء خورونوش لے کر ٹل سے پاڑاچنار روانہ ہوگیا۔ کرم متاثرین کیلئے 17 ٹرک امدادی سامان انتظامیہ کے حوالے کردیے گئے۔
امن کمیٹیوں میں تمام مسالک اور فقہ کے افراد شامل ہیں، امن کمیٹیوں کی گارنٹی کے بعد اشیائے خور و نوش اور سامان کا پہلا قافلہ کل ٹل سے پاڑا چنار کے لئے نکلے گا، قافلے کی حفاظت کیلئے پولیس اہلکار بھی ساتھ ہوں گے۔
پاڑا چنار جانے والے قافلے کی حفاظت پولیس کرے گی، ہنگامی صورت حال میں معاونت کےلیے دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمہ وقت موجود ہوں گے۔
امن کمیٹیوں کا قیام یکم جنوری کو ہونے والے امن معاہدے کے جرگے میں ہوا، مقامی رہنماؤں نے ذاتی اور قبائلی تنازعات کو بالائے طاق رکھ کرحفاظت کی گارنٹی دی۔
80 سے زائد دن سے سڑکوں کی بندش سے بنیادی سہولیات اور ادویات بروقت نہ ملنے سے عوام کو مشکلات رہیں۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف پہلے قافلے کو رخصت کرنے کیلئے کوہاٹ پہنچے اور قافلہ کرم کے بارڈر ایریا چھپری کیلئے روانہ کیا۔
کرم امن معاہدے کے تحت قائم امن کمیٹیوں کی ضمانت پر اشیائے خورونوش اور سامان پر مشتمل گاڑیوں کا پہلا قافلہ ٹل سے پاراچنار کے لئے روانہ ہوا، امدادی سامان میں آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں، گاڑیوں کو حفاظتی حصار میں پارا چنار لایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ کوہاٹ جرگے میں امن معاہدے کے بعد راستہ کھولنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
کرم میں امن کی بحالی کیلئے مقامی افراد، قبائلی و سیاسی قیادت پر مشتمل امن کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں، امن کمیٹیوں میں تمام مسالک اور فقہ کے افراد شامل ہیں۔
مقامی امن کمیٹی میں لوئر کرم سے سابق ایم این اے پیر حیدر علی شاہ، عابی فیض الله، حسین علی سمیت 27 ممبران شامل ہیں جبکہ اپرکرم سے سابقہ سینیٹر سجاد حسین طوری، ایم پی اے علی ہادی، مزمل شاہ سمیت 48 ممبران شامل ہیں۔
کرم متاثرین کیلئے 17 ٹرک امدادی سامان انتظامیہ کے حوالے
محکمۂ ریلیف نے کرم متاثرین کے لیے 17 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کرم انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق امدادی سامان میں 500 خیمے، 500 چٹائیاں اور 200 ترپال شامل ہیں۔متاثرین کے امدادی سامان میں 5 سو طبی حفاظتی کٹس، 5 سو تکیے اور 50 سولر لیمپس بھی شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سردی سے بچاؤ کے لیے 5 سو کمبل، 5 سو بستر اور 150 سلیپنگ بیگز بھی دیے گئے ہیں۔