ایران نے عالمی تیل کی شہ رگ''آبنائےہرمز''بند کردی تو کیا ہوگا؟

ایران نے عالمی تیل کی شہ رگ''آبنائےہرمز''بند کردی تو کیا ہوگا؟
کیپشن: ایران نے عالمی تیل کی شہ رگ''آبنائےہرمز''بند کردی تو کیا ہوگا؟

ویب ڈیسک: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ تہران نے جواباً اسرائیل، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں موجود مفادات کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے ظاہر کیا جا رہا ہے، جسے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کرنے کے اشاروں کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان و متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیج عرب کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ 

سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ قریباً دو کروڑ بیرل تیل اس گزرگاہ سے منتقل ہوا، جس کی مجموعی سالانہ مالیت تقریباً 500 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اسی طرح دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس بھی اسی راستے سے گزرتی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ قطر کا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کے ایک اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے وائرلیس پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اگرچہ ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان نہیں کیا، تاہم خدشات کے پیش نظر متعدد بڑی کمپنیوں نے اپنے تیل اور گیس بردار جہاز عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 150 ٹینکرز اس وقت سمندر میں لنگر انداز ہو کر صورتحال واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

ان خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب گلف آف عمان میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

ماہرین کے مطابق اس راستے کی بندش کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا، کیونکہ یہاں سے گزرنے والی توانائی کا تقریباً 84 فیصد حصہ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کو جاتا ہے۔ ان ممالک کی صنعت، بجلی کی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کا بڑا حصہ خلیجی توانائی پر انحصار کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں محض اضافہ ہی نہیں ہوگا بلکہ خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث اچانک اور شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے گا، جس سے عالمی مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ کر کچھ عرصہ برقرار رہی تو عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ان کے مطابق ایسی صورتحال میں مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود میں کمی کرنا مشکل ہو جائے گا، جس سے کمزور معیشتیں کساد بازاری کی طرف جا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس بار جنگی کارروائیوں کا رخ براہِ راست توانائی کے اثاثوں اور اہم تجارتی راستوں کی جانب ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Watch Live Public News