ویب ڈیسک: پہلگام فالس فلیگ واقعے کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ نینی تال سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی دکانوں پر حملے، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
ذرائع کے مطابق اس جنونیت کے خلاف ایک نہتی مگر باہمت بھارتی لڑکی شاہیلہ نگی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہا پسندوں کے ہجوم کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ اس نے نہ صرف دکانوں کو بچانے کی کوشش کی بلکہ انتہا پسندی کے خلاف کھلے عام آواز بھی بلند کی۔

شاہیلہ نگی نے غصے سے بھرے ہجوم سے کہا: "میں بھارتی شہری ہوں، تم کون ہوتے ہو مجھے خاموش کرنے والے؟"
اس نے انتہا پسند ہندوؤں کی سوچ کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا: "پہلگام میں جو ہوا، اسے بہانہ بنا کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ تمہاری ذہنیت ہے جو تمہیں سڑکوں پر لائی ہے، میری نہیں!"
ذرائع کا کہنا ہے کہ سچ بولنے کی پاداش میں شاہیلہ کو ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم اس نے دوٹوک الفاظ میں کہا: "میں نہیں ڈروں گی، کیونکہ سچ کی طاقت میرے ساتھ ہے!"
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کی سوچ نے پورے بھارت کو لپیٹ میں لے لیا،مودی کی لگائی گئی آگ اسے ہے جلا کر راکھ کر دے گی۔