آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلئے شرط رکھ دی

آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلئے شرط رکھ دی
کیپشن: آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلئے شرط رکھ دی

ویب ڈیسک: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا اسرائیل کی حمایت اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت جاری رکھے گا، دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا تعاون یا تعلقات ممکن نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکا خطے میں اپنے فوجی اڈے قائم رکھے ہوئے ہے اور مقامی ممالک کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کر رہا ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ“امریکی کبھی کبھار کہتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں، لیکن جب تک وہ اسرائیل کی حمایت، اپنے فوجی اڈے اور خطے میں مداخلت جاری رکھیں گے، ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون ناممکن ہے۔”

خامنہ ای کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اگر تہران بھی اس کے لیے آمادہ ہو جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ “ایران کے ساتھ دوستی اور تعاون کا ہاتھ کھلا ہے۔”

واضح رہے کہ گزشتہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جھڑپیں ہوئیں جن میں امریکا نے بھی ایرانی ایٹمی مراکز پر حملے کیے تھے۔ ان واقعات کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

فی الحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات متعدد سنگین رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑا مسئلہ ایران میں یورینیم کی افزودگی (Enrichment) ہے۔ مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ تہران اس عمل کو مکمل طور پر ختم کرے تاکہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے امکانات ختم ہو جائیں، تاہم ایران نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

Watch Live Public News