ویب ڈیسک: وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ جاپان اور چین کے دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی غیرموجودگی نے سیاسی و سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
2019 سے وزارتِ خارجہ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے جے شنکر اب تک مودی کے بیشتر غیر ملکی دوروں کا حصہ رہے ہیں اور انہیں بھارت کی امریکا نواز خارجہ پالیسی کا معمار بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس بار 29 اگست سے یکم ستمبر تک ہونے والے دورے میں وہ شامل نہیں تھے۔
ابتدائی اطلاعات میں ان کی غیرموجودگی کی وجہ طبیعت کی خرابی بتائی گئی، مگر وزارتِ خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ اس دوران جے شنکر کی سوشل میڈیا پر ملاقاتوں اور سرگرمیوں کی تصاویر نے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی غیرموجودگی محض اتفاق نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پوشیدہ تضادات کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر چین کے بارے میں ان کے سخت مؤقف اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو بعض مبصرین اس کی ممکنہ وجہ قرار دیتے ہیں۔
تھنک ٹینکس اور تجزیہ کاروں نے رائے دی ہے کہ جے شنکر حکومت کی پالیسی کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں "صرف امریکہ پر انحصار" ایک بڑی غلطی ثابت ہوئی، جس کی مثال امریکہ کی جانب سے بھارت پر عائد تجارتی پابندیاں ہیں۔
سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید، سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل اور دیگر شخصیات نے بھی جے شنکر کی غیرموجودگی پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم کنول سبل نے اس بات کو مسترد کیا کہ جے شنکر کی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں دورے سے الگ رکھا گیا۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ صرف وزیراعظم کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہیں، وہ پالیسی ساز نہیں ہوتے۔