ویب ڈیسک: پاکستان میں ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کی مذمت اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی، جس کے بعد سے یہ معاملہ خطے اور عالمی سطح پر مسلسل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی خصوصی دستاویزی فلم میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیری عوام کو درپیش حالات اور مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے 7 ہزار 151 افراد میں سے 4 ہزار 190 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2025 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 113 کشمیری غیر قانونی حراست جبکہ 1 ہزار 535 افراد عدالتی حراست میں جان کی بازی ہار گئے۔
اسی طرح جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق طویل کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44 ہزار 500 افراد روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب دی گارڈین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے منسوب رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاقے میں تعینات بھارتی فوج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا معاملہ ہے۔ پاکستان ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر بھارتی اقدامات کی مذمت اور کشمیری عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔