سویڈن: مسلح شخص کی اسکول پر فائرنگ،11افرادہلاک،متعدد زخمی

سویڈن: مسلح شخص کی اسکول پر فائرنگ،11افرادہلاک،متعدد زخمی
کیپشن: سویڈن: مسلح شخص کی اسکول پر فائرنگ،11افرادہلاک،متعدد زخمی

ویب ڈیسک: سویڈن میں ایک مسلح شخص کیجانب سے ہائی اسکول پر فائرنگ کے نتیجہ میں 11 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی میں مسلح شخص کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہحملہ منگل کی سہ پہر سٹاک ہوم سے 125 میل مغرب میں واقع اوربرو شہر میں بالغوں کی تعلیم کے مرکز رسبرگسکا اسکول میں ہوا۔کیمپس میں ہونے والا نقصان اتنازیادہ تھا کہ منگل کی شام تک پولیس کے پاس زخمیوں کی حتمی تعداد نہیں تھی۔

بتایا گیا ہے کہ 35 سالہ حملہ آور کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی جسے کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ سویڈش حکام کے مطابق اس کا گینگ جرائم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے سٹاک ہوم میں صحافیوں کو بتایا: ’’آج ملک میں بےگناہ لوگوں کیخلاف وحشیانہ کارروائی دیکھی گئی۔ ابھی واقعے پر تحقیقات جاری ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے سوالات کے جوابات نہیں دیے جاسکتے۔ تحقیقات کے بعد واقعے کے محرکات کا پتہ چلے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ متاثرین کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12.30 بجے پولیس نےکیمپس سے فائرنگ کی آواز کے بعد کارروائی کا آغاز کیا۔ ویڈیو فوٹیج میں طالب علموں کو کلاس رومز میں میزوں کے نیچے چھپتے ہوئے دکھایا گیا، جب کہ پورے کیمپس میں بھاری گولیوں کی آواز گونج رہی تھی۔ایک اور کلپ میں قاتل کو اسکول کی لمبی راہداریوں میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا جب لوگ باہر بھاگ رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق حملہ آور اپنے ساتھ اسموگ بم لیکر گیا جس سے افراتفری میں اضافہ ہوا۔ 

اوریبرو کے پولیس چیف رابرٹو عید فاریسٹ نے کہا کہ حملہ آور کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے تاہم یہ دہشتگردی کی کارروائی ہے۔ جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی یہ واضح ہوسکا کہ حملہ آور نے کتنے لوگوں کی جان لی اور انہیں کیسے مارا۔

اسکول کے دو اساتذہ مریم جارلیوال اور پیٹرک سوڈرمین واقعے کے عینی شاہد ہیں۔ جنہوں نے اسکول کے اندر فائرنگ کی آواز سنی۔

انہوں نے اخبار Dagens Nyheter کو بتایا: "طلبہ آئے اور کہا کہ کوئی گولی چلا رہا ہے۔ پھر ہم نے دالان میں مزید گولیوں کی آوازیں سنی۔ ہم باہر نہیں نکلے، اپنے دفاتر میں چھپ گئے۔

“پہلے تو گولیوں کی بہت سی آوازیں آئیں پھر آدھے گھنٹے تک خاموشی رہی اور پھر دوبارہ شروع ہو گئی۔ ہم اس وقت شدید خوف میں مبتلا اور دفتر میں میز کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔ 

ایک اور دینی شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اسکول میں 3 دھماکے اور زوردار چیخیں سنیں۔ اس کی کچھ دیر بعد پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینسیں اسکول کے اردگرد جمع ہوگئیں اور ایک ہیلی کاپٹر سے بھی فضائی نگرانی کی جانے لگی۔ کارروائی کے بعد شام تک اسکول کو خالی کروالیا گیا۔ 

پولیس نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔ 

یاد رہے کہ Risbergska اسکول میں 2,000 تک طلباء زیرتعلیم ہیں، جن کی عمریں 20 سال سے زیادہ ہیں۔ یہ ہائی اسکول کی کلاسز کے ساتھ ساتھ تارکین وطن کے لیے سویڈش کلاسز اور خصوصی افراد کیلئے مختلف کورسز پیش کرتا ہے۔

کنگ کارل XVI گستاف نے کیمپس حملے کو سویڈن کے لیے ایک"سیاہ دن" قرار دیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ سویڈن میں اسکولوں میں دہشتگردانہ حملوں کی شرح بہت کم ہے تاہم حالیہ برسوں میں ملک میں بم دھماکوں کو گینگز کے حملوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 

گزشتہ ماہ ایک عراقی اسلام مخالف پناہ گزین جس نے 2023 میں سرعام قرآن پاک کو جلایا تھا، کو اسٹاک ہوم کے قریب اس کے فلیٹ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس:

سویڈن میں سکول میں فائرنگ کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے اظہار افسوس کیا ہے۔اپنے بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوریبرو سویڈن میں سکول میں فائرنگ کے پر تشدد واقعے پر شدید رنجیدہ ہوں۔ واقعے میں کئی قیمتی معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔  

وزیراعظم نے حادثے میں زخمی ہونے والوں، ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا ہے۔

Watch Live Public News