ویب ڈیسک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے جاری مذاکرات کے دوران زور دیا ہے کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) اور صنعتی زونز کو دی گئی مالیاتی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ 2035 تک تمام قسم کی مراعات ختم کرنے کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کیا جائے، جو رواں سال کے اختتام تک پیش کرنا ضروری ہوگا۔
یہ منصوبہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری معاہدے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور ٹیکس نظام میں شفافیت لانا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئندہ مالی سال کا بجٹ براہِ راست آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کے تحت حکومت کو تمام مالیاتی اہداف حاصل کرنا لازم ہوں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کو شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بجٹ خسارہ، قرضوں کا دباؤ اور آئی ایم ایف کی مالیاتی شرائط کے باعث حکومت کو کفایت شعاری اور محدود وسائل میں منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔