ویب ڈیسک: مہنگے پیٹرول سے پریشان، شہریوں کی بڑی مشکل حل، عصر حاضر میں جدید خصوصیات سے مزین کم قیمت میں جولٹا الیکٹرک کمپنی کی ای وہیکل بائیکس آگئیں۔
جولٹا الیکٹرک کمپنی جو مختلف ویرئنٹس کے الیکٹرک موٹرسائیکلز بنارہی ہے اور کامیابی اور اعتماد سے اپنی پراڈکٹ کسٹمر تک پہنچا بھی رہی ہے، پاکستان کی واحد کمپنی جولٹا اور پاک زون ہے جو الیکٹرک بائیک کی موٹرز خود بنارہی ہیں۔
’پبلک نیوز نیٹ ورک‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی حکام نے بتایا کہ موٹر کی تیاری کے لئے پہلے اُس کی وئنڈنگ کی جاتی ہے، اُس کے بعد کنکشز ہوتے ہیں اور پھر سنسر لگتے ہیں اور پھر ’بی ایل ڈی سی‘ لگتے ہیں، الیکٹرک بائیکس میں ’بی ایل ڈی سی‘ موٹر استعمال ہوتی ہے، موٹر میں کاپر کی وائرنگ کی جاتی ہے، آئی پی 54 ہوتی ہے واٹر ریزسٹنس ہوتی ہے۔
موٹر کے تیار ہونے کے بعد 3 سے 4 ٹیسٹ کئے جاتے ہیں، جس میں نوٹ کیا جاتا ہے کہ موٹر کتنا لوڈ ایمپئیر کررہی ہے، فائنل ٹیسٹ کے بعد موٹر کو اسمبلی لائن پر بھیج دیا جاتا ہے.
کوالٹی کنٹرول ڈیپارٹمنٹ میں الیکٹرک بائیکس کے تمام پارٹس کا معائنہ کیا جاتا ہے، جہاں دیکھا جاتا ہے کہ تمام پارٹس آپریٹ کررہے ہیں یا نہیں، اُس کے بعد ’مین اسمبلی لائن‘ میں لایا جاتا ہے۔
سکوٹی کو الگ اسمبل کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ریگولر سیکوٹی بھی تیار کی جاتی ہے، کمپنی کی جانب سے پورے پاکستان میں فروخت کا نیٹ ورک موجود ہے، کمپنی گھر کی دہلیز پر کلیم بھی دے رہی ہے۔
کمپنی حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دی جانے والی گرین سکوٹی میں زیادہ شیئر جولٹا کا ہے، ’ الیکٹرک سپیئرو‘ 16،17 سال کے بچوں، بچیوں کے لئے جو ایک چارج میں 50 کلو میٹر فاضہ طے کرتی ہے، یہ بائسیکل کے طور پر بھی استعمال ہوسکتی ہے۔
1 لاکھ 75 ہزار میں نیا ماڈل دستیاب ہے، سٹوم پرو الیکٹرک بائیک سکوٹی 1 لاکھ 65 ہزار میں فروخت کی جارہی ہے۔