امریکا پر ٹیکس لگانے والوں پر جوابی ٹیکس لگایا جائے گا،ڈونلڈٹرمپ

امریکا پر ٹیکس لگانے والوں پر جوابی ٹیکس لگایا جائے گا،ڈونلڈٹرمپ
کیپشن: امریکا پر ٹیکس لگانے والوں پر جوابی ٹیکس لگایا جائے گا،ڈونلڈٹرمپ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کانگریس سے پہلا خطاب کیاہے۔

صدارت سنبھالنے کے بعد کانگریس سے پہلے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پھر سے میدان میں آگیا ہے، ہم نے ڈیڑھ ماہ میں جتنا کام کیا، اتنا دیگر نے 4سالوں میں کیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی توکام شروع ہی کیا ہے۔ امریکا اپنے پہلے مومینٹم پر واپس آگیا ہے، امریکا پہلے سے بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہوچکا ہے۔

 رکن کانگریس کا صدر ٹرمپ کی تقریر کے دوران احتجاج

ڈیموکریٹک رکن کانگریس آل گرین کی جانب سے صدر ٹرمپ کی تقریر کے دوران احتجاج کیا گیا۔

ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر ڈیموکریٹک قانون ساز کو کانگریس سے نکال دیا گیا۔

ٹرمپ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد امریکا میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف اقدامات کیے۔ڈیموکریٹ میرے لیے کھڑے نہیں ہوں گے،ایسا ہونا نہیں چاہیے، میری قیادت میں امریکا نا قابل تسخیر ہے۔

 ڈیموکریٹ کو دعوت دیتا ہوں مل کرامریکا کو عظیم بنائیں: ٹرمپ
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹ کو دعوت دیتا ہوں مل کرامریکا کو عظیم بنائیں، معدنیات کی پیداوار کو بڑھانے کیلیے تاریخی اقدامات کروں گا، معیشت کی بحالی میری ترجیحات میں سے ایک ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ سے معاشی تباہی اور افراط ذرکا ڈراؤنا خواب ملا، جو بائیڈن نے انڈوں تک کی قیمت لوگوں کی قوت خرید سے باہر کر دی تھی۔

 امریکی صدر ٹرمپ نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے جرائم کا خاتمہ کیا مگر ڈیموکریٹس اس پر خوش نہیں، امریکی عوام کا پیسہ امداد پر ضائع کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ شرح سود میں کمی لائی گئی، بجٹ میں توازن لائیں گے، 5 ملین ڈالر سےگولڈ کارڈ جاری کرینگے جو گرین کارڈ سے بہتر ہوگا، ہم اپنا قرض گولڈ کارڈلینےوالوں کی رقم سے اتاریں گے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ تبدیلی کی راہ میں حائل بیوروکریٹ کو نکال دیں گے، 6 ہفتے کے دوران تقریباً 100 کے قریب ایگزیکٹو آرڈرپر دستخظ کیے۔ امداد کے طور پردیا پیسہ واپس لاکرمہنگائی کم کرنے کیلیے استعمال کریں گے۔

جو ملک امریکا پر ٹیکس لگائے گا،ہم جوابی ٹیکس لگائیں گے:ٹرمپ
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 2 اپریل سے جو ملک امریکا پر ٹیکس لگائے گا،ہم جوابی ٹیکس لگائیں گے۔کینیڈا کو سبسڈی دیتے ہیں، اب ایسا نہیں ہوگا۔ امریکا میں چیزیں نہیں تیار کریں گے تو ٹیرف دینا پڑےگا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ "میں یکم اپریل کو ٹیرف کا نفاذ چاہتا تھا لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھ پر اپریل فولز ڈے کا الزام لگے۔"

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایلومینیم، اسٹیل، کاپر اور لکڑی کی درآمد پر بھی 25 فی صد ٹیرف عائد کریں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ نئی تجارتی پالیسی سے کسانوں کو فائدہ ہوگا،کوئی مقابلہ نہیں کر سکےگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ4سال میں 21 ملین افراد امریکا آئے، بائیڈن کی اوپن بارڈر پالیسی تھی، ہم غیرقانونی امیگرینٹس کو نکالیں گے۔غیرقانونی امیگرینٹس کےخلاف امریکی تاریخ کا سخت ترین کریک ڈاون کیا جارہا ہے۔

ٹیرف کا نفاذ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کیلئے اہم: ٹرمپ

کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو پر ٹیرف عائد کرنے کو امریکا کو دوبارہ عظیم اور امیر بنانے کے لئے اہم قدم قراردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ملازمتوں کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ امریکا کی روح کے بارے میں ہے۔  انہوں نے اعتراف کیا کہ تھوڑی سی گڑبڑ تو ہوگی لیکن پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔

گرین لینڈ کے اپنےمستقبل کے تعین کی حمایت:

صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے اپنے مستقبل کے تعین کے حق کی حمایت کرتا ہے اور اگر آپ انتخاب کرتے ہیں تو آپ کو امریکہ میں خوش آمدید کہیں گے۔

ان کا کہنا تھا ہمیں قومی و بین الاقوامی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو شامل کرکے اسے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول "میرے خیال سے ہم اسے حاصل کرلیں گے۔ کسی نہ کسی طریقے سے، ہم اسے حاصل کرلیں گے۔"

صدر ٹرمپ نے مشترکہ اجلاس کے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "امریکہ کے سنہری دور کا ابھی صرف آغاز ہے۔"

ان کے خطاب کے اختتام پر ری پبلکن قانون سازوں نے کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کیا اور 'فائٹ! فائٹ! فائٹ!' کے نعرے لگاتے ہوئے ہوا میں ہاتھ بلند کیے۔

اس موقع پر ڈیموکریٹس اراکین تیزی سے چیمبر سے باہر چلے گئے اور ری پبلکن اراکین صدر سے مصافحہ کرنے لگے۔