امریکی صدر کا اپنے خطاب میں پاکستانی حکومت سے اظہارتشکر

امریکی صدر کا اپنے خطاب میں پاکستانی حکومت سے اظہارتشکر
کیپشن: امریکی صدر کا اپنے خطاب میں پاکستانی حکومت سے اظہارتشکر

ویب ڈیسک: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نےکانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلے خطاب میں پاکستانی حکومت سے اظہار تشکر کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابقامریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے وقت ہونے والے دھماکے کے مبینہ ملزم کی گرفتاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کی شب کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے ای بے گیٹ پر ہونے والے حملے کے مشتبہ ملزم کو امریکا لایا جا رہا ہے۔امریکا میں وہ  دہشت گرد قانون کا سامنا کرے گا ۔

اگست 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کے ای بے گیٹ پر دھماکہ ہوا تھا جس میں 13 امریکی اہلکاروں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے  مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ دھماکے کے مبینہ ملزم کی شںاخت محمد شریف اللہ کے نام سے ہوئی ہے جسے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکا لایا جا رہا ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کیش پٹیل کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی، سی آئی اے اور محکمۂ انصاف کی کوششوں کے نتیجے میں ملزم کو امریکا لایا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایک بار پھر بنیاد پرست اسلامی شدت پسند قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ’ساڑھے تین سال قبل افغانستان سے امریکا کے تباہ کن اور نااہل انخلاء کے دوران ایبے گیٹ پر داعش کے شدت پسندوں کے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور لاتعداد افراد زخمی ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا کیا گیا وہ ’شاید ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔‘

’آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے اس حملے کے مرکزی ملزم کو پکڑ لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ان 13 خاندانوں کے لیے ایک بہت ہی اہم دن ہے جن کے پیارے اس حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ اور زخمیوں سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہولناک دن تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے والدین اور پیاروں سے بات ہوئی ہے۔