ویب ڈیسک: امریکی میڈیا ’سی بی ایس‘ نے حال ہی میں ٹرمپ کے فیصلوں کے حوالے سے ایک سروے کرایا ہے۔ سروے میں شامل 52 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ’ ڈاج‘ کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ 40 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جو تبدیلی کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ 35 فیصد امریکیوں نے اسے درست قرار دیا ہے۔
سروے کے مطابق امریکا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جس کام کے لیے آئے تھے، اس کو چھوڑ کر باقی سب کر رہے ہیں۔ امریکی باشندوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے راحت کا فیصلہ اگر ٹرمپ کرتے ہیں تو ہی آگے کوئی بات بن سکتی ہے۔ واضح ہو کہ سی بی ایس کے سروے میں شامل 82 فیصد امیریکیوں کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ معیشت میں بہتری کی بات ہو۔ 80 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے راحت دلانے کی سمت میں حکومت کام کرے۔ اسی طرح 29 فیصد لوگ ٹیکس میں چھوٹ چاہتے ہیں۔ جب کہ 51 فیصد لوگوں کے لیے ہی میکسیکو بارڈر کا مسئلہ ہے۔
سروے میں شامل 73 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ میکسیکو بارڈر تنازعہ کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ 69 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی حکومت ملازمت کو ختم کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ سروے میں شامل 29 فیصد لوگوں کو لگ رہا ہے کہ ٹرمپ مہنگائی کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ منجملہ طور پر اگر سروے کو دیکھا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو امریکا کے لوگ چاہتے تھے، ٹرمپ اس کے برعکس کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی امریکا کے لوگ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں کی گئی تبدیلی سے بھی متفق نہیں ہیں۔ 42 فیصد امریکیوں نے سروے میں کہا کہ ٹرمپ کے ذریعہ جو خارجہ پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اس سے ملک کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ جبکہ 31 فیصد لوگوں نے خارجہ پالیسی کو درست قرار دیا ہے۔
سروے میں شامل 52 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین کے ساتھ ہیں، صرف 4 فیصد لوگوں نے روس کی حمایت کی ہے۔ واضح ہو کہ یہ سروے اس وقت کیا گیا تھا جب وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان بحث نہیں ہوئی تھی۔ یوکرین کی حمایت کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ، زیلنسکی کے بجائے پوتن کی حمایت کر رہے ہیں جو غلط ہے۔ 51 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی سپلائی روکنا غلط ہوگا۔
سروے میں شامل 52 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ’ ڈاج‘ کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ 40 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جو تبدیلی کر رہے ہیں، وہ غلط ہے۔ 35 فیصد امریکی شہریوں نے اسے درست قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً 50 تو کملا ہیرس کو 48 فیصد ووٹ ملے تھے۔














