ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کو مؤثر بنانے کے لیے سخت انکم ٹیکس آرڈیننس نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو کاروباری اداروں کی براہِ راست نگرانی کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق اب چیف کمشنر کسی بھی کاروباری مقام پر افسر تعینات کر سکتا ہے تاکہ پیداوار، خدمات اور اسٹاک کی براہ راست نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا مقصد سیلز میں کمی دکھا کر ٹیکس بچانے کے رجحان کا خاتمہ کرنا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ نگرانی صرف تجارتی اداروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سروس سیکٹرز میں بھی ممکن ہو گی۔ آرڈیننس کے تحت اگر کسی عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر بل وصولی ممکن ہو تو متعلقہ بینک اکاؤنٹ سے براہ راست ٹیکس کٹوتی کی جا سکے گی۔
نئے آرڈیننس میں جعلی بار کوڈز، لیبلز یا اسٹیمپ کے ذریعے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) سے بچنے کو بھی سنگین مجرمانہ عمل قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو اب یہ اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے کہ وہ دیگر وفاقی یا صوبائی افسران کو چیکنگ، ضبطگی یا معائنے کا اختیار تفویض کر سکے۔ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔