26 نومبراحتجاج:عدالت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کا گرفتار نہ کرنے کا حکم

26 نومبراحتجاج:عدالت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کا گرفتار نہ کرنے کا حکم
کیپشن: 26 نومبراحتجاج:عدالت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کا گرفتار نہ کرنے کا حکم

ویب ڈیسک: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے 26 نومبر اور سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاجات کے مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماؤں کو 24 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 1 کے ڈیوٹی جج، طاہر عباس سپرا نے قبل از گرفتاری ضمانت کی 161 درخواستوں پر سماعت کی۔ ان مقدمات میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر فلک ناز، ایم این ایز لطیف کھوسہ، ساجد خان، شیر علی ارباب، فضل محمد خان، آصف خان اور دیگر کئی رہنما شامل تھے۔

سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ تمام مقدمات کے چالان عدالت کو موصول ہو چکے ہیں، تاہم ضمانت کی درخواستیں الگ الگ تاریخوں پر ہیں۔ وکیل علی بخاری نے مؤقف اپنایا کہ بیشتر ضمانتیں پہلے ہی 24 جون کو مقرر ہیں، اس لیے تمام درخواستوں کو اسی تاریخ تک ملتوی کیا جائے۔

لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ انہوں نے تفتیشی عمل میں حصہ لیا اور تمام مطلوبہ ریکارڈ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر درج ہونے کے وقت وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بعض شریک ملزمان کو سی سی ٹی وی شواہد کی بنیاد پر مقدمات سے خارج کر دیا گیا ہے، جس پر جج نے ہدایت دی کہ تمام ملزمان کی موجودگی یا عدم موجودگی کی یکساں جانچ پڑتال کی جائے اور "پک اینڈ چوز" نہ کیا جائے۔

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے عدالت سے استدعا کی کہ یا تو ان ضمانتوں پر فیصلہ کر دیا جائے یا مقدمات خارج کر دیے جائیں۔ انہوں نے کہا، "تھانے کے پاس سے گزرنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، اگر ریاست ہمیں جیل بھیجنا چاہتی ہے تو واضح کرے۔"

دریں اثنا، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنماؤں نے حاضری سے استثنا کی درخواستیں دائر کیں۔ ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ مختلف وجوہات کے باعث وہ آئندہ سماعت پر حاضر نہیں ہو سکتے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ کوہسار، مارگلہ، آبپارہ، سیکریٹریٹ اور دیگر تھانوں میں 10 مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور دیگر الزامات شامل ہیں۔

Watch Live Public News