ویب ڈیسک: پنجاب کے مختلف دریاؤں اور ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیڈ قادر آباد اور چنیوٹ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں پانی کے ریلے نے اطراف کے دیہات کو ڈبو دیا اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق چنیوٹ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 54 ہزار 998 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ اس سال کا سب سے بڑا ریلا ہے۔ ہیڈ قادر آباد پر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے اور بہاؤ 3 لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا۔ ہیڈ خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 48 ہزار 840 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی طرح ہیڈ تریموں پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 77 ہزار 922 کیوسک رہا۔ ہیڈ مرالہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہوا اور وہاں بہاؤ 1 لاکھ 17 ہزار 369 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے اور پانی کے بہاؤ میں کمی کے بعد یہ 1 لاکھ 30 ہزار 164 کیوسک پر آگیا۔
محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق دریائے چناب کے جسڑ اور شاہدرہ کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا۔ جسڑ پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار 300 کیوسک جبکہ شاہدرہ پر 1 لاکھ 8 ہزار 960 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر دریائے ستلج میں طغیانی نے اوچ شریف کے قریب تباہی مچادی، جہاں پانی مزید 20 رہائشی بستیوں میں داخل ہوگیا۔ اس سیلاب نے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔
خانیوال اور پنڈی بھٹیاں بھی سیلابی ریلوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ خانیوال کے درجنوں دیہات پانی میں گھر گئے جبکہ پنڈی بھٹیاں میں دریائے چناب کے پانی نے شہر کے مغربی حصے کو لپیٹ میں لے لیا، جس سے کئی رہائشی علاقے زیر آب آگئے۔
ریسکیو اور انتظامیہ کے عملے کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ تاہم پانی کے مسلسل دباؤ کے باعث صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔