ویب ڈیسک: (علی زیدی) بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی شدت ایک بار پھر اس وقت بڑھ گئی جب برطانوی کولمبیا کے شہر سرے میں واقع گوردوارہ کمپلیکس کے اندر ’ خالصتان ایمبیسی‘ کی نام نہاد تختی لگائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بھارتی میڈیا'منٹ' کی رپورٹ کے مطابق یہ بورڈ سکھوں کی علیحدگی پسند تنظیم ’سکھس فار جسٹس (SFJ)‘ کی سرپرستی میں نصب کیا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے تناؤ کا شکار تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گرو نانک سکھ گوردوارہ کمپلیکس کے احاطے میں ایک عمارت پر ’ریپبلک آف خالصتان‘ کی نمائندگی کرنے والی تختی آویزاں کی گئی ہے، جسے مبینہ طور پر ’ خالصتان ایمبیسی‘ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں مقامی کمیونٹی سینٹر بھی کام کرتا ہے اور جس کی تزئین و آرائش کے لیے برٹش کولمبیا حکومت کی جانب سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی گئی تھی۔ سرکاری رقم سے اَپ گریڈ کی گئی جگہ کا خالصتان سے وابستہ علامتی مرکز میں بدل جانا نہ صرف سیاسی تنقید کا باعث بنا ہے بلکہ عوامی فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
اس پیش رفت پر بھارتی سیاسی قیادت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرپریت سنگھ اوجلا نے کینیڈا میں آزادی اظہار پر زور دیتے ہوئے نئی دہلی سے کہا کہ وہ اس معاملے کو اوٹاوا کے ساتھ بھرپور طور پر اٹھائے۔ جبکہ بی جے پی رہنما تروِندر سنگھ مارواہا نے خالصتان حامی ڈائیسپورا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کینیڈین حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات جون 2023 میں ہرپریت سنگھ نِجّرجیسی اہم خالصتان شخصیت کی ہلاکت کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ بھارت بارہا کینیڈا سے کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو بھارتی مفادات کے خلاف انتہا پسند سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، مگر تازہ اقدام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔