(ویب ڈیسک ) نریندر مودی کی نگرانی میں منی پور مسلسل نسلی خونریزی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ کسی بھی سطح پر جوابدہی نظر نہیں آتی۔
شدید تشدد، دیہات کو نذرِ آتش کیے جانے اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنے والی کوکی خواتین کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دھمکیوں سمیت بے رحمانہ طاقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Kuki women protesting violence, the burning of villages, and the loss of lives say they were met with force and intimidation instead of protection. The ongoing conflict has left at least 160 people dead and displaced tens of thousands.#Manipur #PritamAndPedro #LoyolaMani pic.twitter.com/HiGppaLEgj
— Sarah Matthew (@SarahMatth78633) July 13, 2026
مظاہرین نے مزید نشاندہی کی کہ اس تنازعے کے نتیجے میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔چند روز قبل ہی ایک اور کوکی کسان کو بے دردی سے گولی مار کر قتل کر دیا گیا، جو اس نوعیت کا پندرہواں واقعہ ہے، جبکہ تازہ آتش زنی کے واقعات بھی جاری ہیں۔
250 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، 60 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، سینکڑوں دیہات تباہ کیے جا چکے ہیں، اور خواتین کو ہولناک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے باوجود مودی کی بی جے پی حکومت جانبدارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مئیتی ملیشیاؤں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، جبکہ کوکی برادری منظم ظلم و ستم کا سامنا کر رہی ہے۔
تین سالہ بدامنی، ٹوٹے ہوئے وعدے اور وزیر اعظم کی شرمناک خاموشی ایک حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اس حکومت نے ووٹ بینک کی سیاست کے لیے منی پور کے قبائلی عوام کو نظر انداز کر دیا ہے۔روزانہ کا خوف، نئی ہلاکتیں اور انصاف کا فقدان مودی حکومت کی مکمل ناکامی اور اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کرتے ہیں۔
منی پور میں بھارتی مرکزی حکومت کی بے حسی اور غفلت اس المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔