منی پور: مودی حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی غصے کا سامنا 

منی پور: مودی حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی غصے کا سامنا 

(ویب ڈیسک) جولائی 2026 میں، خاص طور پر کوکی-زو برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مظاہرین کانگپوکپی اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر نکل آئے اور مودی حکومت کے خلاف کھل کر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کو حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں تصادم ہوئے اور مرکزی حکومت کی عملداری کی حدود نمایاں ہو گئیں۔

اطلاعات کے مطابق ہڑتالوں اور ناکہ بندیوں کے باعث ضروری اشیائے صرف کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

کوکی-زو گروہوں نے، جو پہاڑی اضلاع کی مبینہ "بلقانائزیشن" اور مخالف عسکریت پسندوں کے حملوں پر طویل عرصے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اب بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے خلاف اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا ہے۔

ہزاروں مرکزی سکیورٹی اہلکاروں، جن میں سی آر پی ایف بھی شامل ہے، کی تعیناتی کے باوجود مودی حکومت 2023 میں شروع ہونے والے نسلی تشدد کے تین سال بعد بھی نہ تو معمول کی صورتحال بحال کر سکی ہے اور نہ ہی دیرپا امن قائم کر پائی ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس منی پور میں اب بھی ماورائے عدالت ہلاکتوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور  بھارتی سکیورٹی فورسز کے سخت گیر طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مسلسل نسلی تقسیم، عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے اور حکومتی خلا نے ایک اہم ناکامی کو نمایاں کر دیا ہے: نئی دہلی کا عسکری نقطۂ نظر   منی پور کے گہرے بحران کا حل پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث عام شہری مسلسل بے چینی اور مشکلات کا شکار ہیں۔

مودی حکومت منی پور کے جائز مطالبات پورے نہیں کر رہی۔

Watch Live Public News