(ویب ڈیسک ) منی پور میں ظلم کی انتہا، مودی حکومت اپنے مظالم دنیا سے چھپا رہی ہے، لیکن یہ سچ زیادہ دیر تک نہیں چھپ سکے گا۔
منی پور میں ایک بار پھر تشدد بھڑک اٹھا۔ منی پور کے ضلع کانگپوکپی میں تازہ جھڑپوں کے دوران مبینہ طور فائرنگ کے تبادلے میں ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہو گئے جبکہ تین گھروں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
یہ واقعہ وزیرِ اعلیٰ کے ضلع چوراچاند پور کے دورے کے صرف ایک روز بعد پیش آیا، جو ریاست میں امن و امان کی سنگین صورتحال کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
مودی حکومت منی پور میں امنو امان بر قرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مودی حکومت پر منی پور میں پر تشدد واقعات میں ہندو گروپوں کی حمات ہر کرسچین گروپوں کی مخالفت کا الزام بھی لگ چکا ہے۔
مودی حکومت منی پور میں آزادی کی تحریک کو مسلحہ گروپو ں کے تشدد کے نام پر دنیا سے چھپا رہی ہے۔ بھارت کی سنٹرل حکومت کا عملا منی پور میں گورنمنٹ رٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
مودی حکومت نے میڈیا بلیک آوٹ کیا ہو اہے۔ منی پور میں آنے جانے کے راستے بند کیے ہو ئے ہیں۔ منی پور میں عوام کو اشیا ضروری کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
منی پور میں ہزاروں افراد حکومت کے خلاف مظاہرے روزانہ کا معمول ہیں۔