ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے گزشتہ روز ہونے والے احتجاج میں کارکنوں کی کم شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر اس معاملے کو اٹھائیں گے کہ آخر لوگ احتجاج میں کیوں نہیں پہنچے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اور محمود خان اچکزئی رات 11 بجے تک بانی چیئرمین کی بہنوں کے ہمراہ چکری انٹرچینج پر موجود رہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی کال پر کوئی رکنِ پارلیمنٹ بغیر وجوہات کے احتجاج سے غیر حاضر نہیں رہ سکتا۔ اگر کسی کے پاس احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی معقول وجہ نہیں ہے تو اُسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ احتجاج صوبائی اور مقامی سطح پر منعقد کیا جائے گا اور اس حوالے سے مقامی قیادت کو ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ انتظامات خود ترتیب دیں۔
انہوں نے احتجاج کو مجموعی طور پر کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آخری احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور آئندہ مظاہروں کو پہلے سے بہتر طریقے سے منظم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بانی چیئرمین سے مشاورت کی جائے گی کہ کارکن بڑی تعداد میں گھروں سے کیوں نہیں نکلے۔
توشہ خانہ ٹو اور سائفر ریفرنس کے مقدمات پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ ٹرائلز مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سائفر کیس میں فیملی، وکلاء اور میڈیا کو داخلے سے روک کر ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق ان مقدمات کی کارروائی اوپن ٹرائل نہیں کہلائی جا سکتی کیونکہ عدالت نے دو مرتبہ سائفر ٹرائل کالعدم قرار دیا، اس کے باوجود کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ توشہ خانہ ٹو میں ان کا وکالت نامہ موجود ہونے کے باوجود انہیں اندر جانے سے روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان غیر آئینی ٹرائلز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ مذاکرات کا حتمی فیصلہ بانی چیئرمین ہی کریں گے، اور موجودہ حالات میں جب اعلیٰ عدالتی احکامات کو پولیس حکام تک نظر انداز کر رہے ہوں، ایسے ماحول میں کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔