ویب ڈیسک: حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں۔ تاہم اب ذرائع نے خبر دی ہے کہ مذاکرات کا تیسرا دور پی ٹی آئی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسد قیصر نے مذاکرات کے حوالے سے ایکس پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ دو اجلاس ہوچکے ہیں۔ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنی ضروری ہے۔ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی بتایا تھا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنی ہے۔امید تھی آج ملاقات ہوگی لیکن ابھی تک کوئی کنفرمیشن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کل ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجائے گی۔بشری بی بی مذاکراتی سلسلے میں بالکل شامل نہیں۔کسی نے غلط خبر دی ہے بشری بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات چل رہے ہیں۔میں نے اس خبر کی تردید کی ہے ایسی کوئی بات نہیں۔ہمارے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں نہ کوئی مذاکرات ہورہے۔جو کمیٹی بانی پی ٹی آئی نے بنائی ہے وہی مذاکرات کررہی ہے۔مذاکراتی کمیٹی کے دو اجلاسوں کے علاوہ کہیں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے دو ہی مطالبات ہیں اسیران کی رہائی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام۔بانی پی ٹی آئی نے ان دو مطالبات کیلئے ٹائم فریم دیا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے واضع کہا ہے 190 ملین پاؤنڈ کا فیصلہ آنا چاہیئے۔بانی پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کوئی ذاتی فوائد حاصل نہیں کئے ہیں۔گواہوں نے بھی عدالت میں بتایا ہے بانی پی ٹی آئی کا براہ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔امید ہے القادر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی بری ہونگے۔