(ویب ڈیسک ) کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جسٹن ٹروڈو 9 سال کینیڈا کے وزیراعظم رہے۔ وہ 11 سال تک لبرل پارٹی کے سربراہ رہے۔
جسٹس ٹروڈو نے کہا کہ جب سے وہ 2015 میں وزیر اعظم بنے ہیں، انہوں نے کینیڈا اور اس کے لوگوں کے لیے، متوسط طبقے کو مضبوط کرنے کیلئے جدوجہد کی ، اور آزاد تجارت کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبرل پارٹی کا نیا لیڈر منتخب ہونے تک وزیراعظم رہوں گا ، مستعفی ہونے کا فیصلہ اپنے خاندان کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد کیا ، اپنے بچوں کو کل رات کے کھانے پر استعفیٰ دینے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا۔
جسٹن ٹروڈو نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اگلے انتخابات میں حقیقی انتخاب کا مستحق ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ وہ ایک فائٹر ہیں اور ان کے جسم کی ہر ہڈی انہیں لڑنے کا کہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ "مہینوں سے مفلوج" رہی ہے –انہوں نے اسے کینیڈا کی تاریخ میں اقلیتی پارلیمنٹ کا طویل ترین اجلاس کہا۔
ٹروڈو نے کہا کہ اسی لیے ملک کو پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کی ضرورت ہے، اور ایوان کو 24 مارچ تک ملتوی کر دیا جائے گا۔
جسٹس ٹروڈو نے کہا کہ ان کی لبرل پارٹی 2021 میں تیسری بار وبائی امراض کے بعد کی معیشت کو مضبوط کرنے اور کینیڈا کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے منتخب ہوئی تھی، اور ان کا کہنا ہے کہ یہی کام وہ اور ان کی پارٹی کرتے رہیں گے۔