ویب ڈیسک: ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
تفصیلات کے مطابق جی ایچ کیو میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ برس مئی میں معرکہ حق اور اکتوبر میں افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، دنیا نے دیکھا کہ معرکہ حق میں ہندوستان کا منہ کالا کیا گیا جو بہت ضروری تھا، بھارت نے معرکہ حق کے بعد دہشتگردی کو خوب ہوا دی، اکتوبر 2025 میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کےکسی شہری یا انفرا اسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تین مختلف سطحوں پر لڑی جا رہی ہے، جس میں سرحدی محاذ، داخلی سیکیورٹی اور جدید ٹیکنیکل جنگ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر پاک فوج کے جوان براہ راست دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں اور دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سرحدی علاقوں میں باڑ کے اطراف بھی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور خوارج کی منظم تشکیلوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں دہشت گرد امجد کو بھی دراندازی کے دوران مارا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید طریقے استعمال کر رہے ہیں اور اب تک حملوں میں 410 کوارڈ کاپٹر ڈرونز استعمال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئی ای ڈیز اور دیگر جدید ہتھیار بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد اکثر مساجد، بچوں اور آبادی کو اپنی ڈھال بناتے ہیں، جو نہ صرف انسانیت بلکہ مقامی روایات کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آبادی کو ڈھال بنانا پختونوں کی روایت ہو سکتی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ کوارڈ کاپٹرز صرف وہاں استعمال کیے جاتے ہیں جہاں معصوم شہری موجود نہ ہوں، جبکہ پاکستان ڈرونز کو بنیادی طور پر نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ریاست، عوام اور افواج پاکستان مکمل طور پر متحد ہیں اور افواج پاکستان اور عوام کے درمیان کسی قسم کا کوئی خلا موجود نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف منظم پراپیگنڈے کے حوالے سے کہا کہ 2025 میں کئی پردہ نشین عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کی جاتی ہے اور بعض تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد بھی اس میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اکاؤنٹس سے دہشت گردوں کے حق میں بیانات دیے جاتے ہیں اور یہ عناصر دہشت گردوں کے نام نہاد انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب دنیا کھل کر افغان دہشت گردوں کے خلاف بات کر رہی ہے اور یورپ سمیت مختلف خطوں سے افغان دہشت گرد عناصر کو نکالا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اس امر کی نشاندہی ہو رہی ہے کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور ان کی موجودگی سے عالمی سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کوئی باقاعدہ حکومت نہیں بلکہ ایک گروہ ہیں جنہوں نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے تو باقی ممالک میں اس کے اثرات کیوں کم نظر آتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک سادہ سا سوال نہیں بلکہ اس کے پیچھے زمینی حقائق، جغرافیہ اور ہمسایہ ممالک کی صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون سا پڑوسی ملک افغان طالبان سے مطمئن ہے، یہ سوال خود بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک شعری انداز میں کہا کہ “جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے”، جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی ایک فریق حقیقت کو تسلیم نہ بھی کرے تو دنیا بھر کے ممالک زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے اثرات کی نشاندہی کرتا آ رہا ہے اور اب عالمی برادری بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ کہتے ہیں باقی ممالک میں افغانستان سے دہشت گردی کیوں نہیں ہو رہی، بتائیں کون سا پڑوسی ملک افغان طالبان سے خوش ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کون پاکستان کو ڈالر دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا حکومت نے کس کو دیے ہیں، معدنیات کی دولت امن کے بغیر نہیں نکالی جاسکتی، معدنیات کا فائدہ مقامی آبادی کو ملنا چاہئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ یہ کہتے ہیں فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پر کام کرتی ہے، یہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں کرنے دیں گے، سوات میں بڑی قربانیوں کے بعد امن قائم ہوا، کیا آپ سوات میں دہشت گردوں کی اجارہ داری چاہتے ہیں؟
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اے این پی اور دیگر غیور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوئیں، یہ خود فتنہ الخوارج کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اس سیاسی جماعت پر حملہ کیوں نہیں کرتی؟ کیونکہ یہ فتنہ الخوارج کے منظورِ نظر بننا چاہتے ہیں، یہ سیاسی جماعت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔