خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی مخالفت کی ،ترجمان پاک فوج

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی مخالفت کی ،ترجمان پاک فوج

(ویب ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہ کہتے ہیں فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پر کام کرتی ہے، یہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں کرنے دیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کون پاکستان کو ڈالر دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا حکومت نے کس کو دیے ہیں، معدنیات کی دولت امن کے بغیر نہیں نکالی جاسکتی، معدنیات کا فائدہ مقامی آبادی کو ملنا چاہئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کہتے ہیں فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پر کام کرتی ہے، یہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں کرنے دیں گے، سوات میں بڑی قربانیوں کے بعد امن قائم ہوا، کیا آپ سوات میں دہشت گردوں کی اجارہ داری چاہتے ہیں؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اے این پی اور دیگر غیور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوئیں، یہ خود فتنہ الخوارج کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اس سیاسی جماعت پر حملہ کیوں نہیں کرتی؟ کیونکہ یہ فتنہ الخوارج کے منظورِ نظر بننا چاہتے ہیں، یہ سیاسی جماعت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے  کہا کہ ایکشن پلان پرتمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، نیشنل ایکشن پلان میں پاک فوج اپنے حصے کا کام کر رہی ہے، کچھ کام صوبائی حکومت، انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوآرڈینیشن کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان قیام امن کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں، یہ کوآرڈینیشن کمیٹیاں ضلعی سطح پر کام کررہی ہیں۔

Watch Live Public News