ویب ڈیسک: بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیر اثر مسلمانوں کے خلاف منظم ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کا سلسلہ ریاستی سرپرستی میں جاری ہے۔ بی جے پی حکومت نہ صرف خود بلکہ دیگر ریاستی ادارے اور بھارتی میڈیا بھی مسلم مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بی جے پی کے علاوہ ریاستی سرپرستی میں تمام ادارے بشمول میڈیامسلم کش پالیسیز میں شامل ہے،بین الاقوامی میڈیا متعددبار بھارتی ریاستی سرپرستی میں مسلم کش پالیسیز کو بے نقاب کر چکاہے،بی جے پی مسلمان مخالف بیانیے، تقاریر اور ہرزہ سرائی کی وجہ سے معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھتی ہے۔
نریندر مودی نے اتر پردیش جلسے سے خطاب میں کہا کہ اگر کسی علاقے میں قبرستان ہے تو وہاں پر شمشان گھاٹ بھی بنے گا،کانگریس پارٹی نے کہا تھا کہ بھارت کے وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے،کیا بھارتی عوام کی محنت کی کمائی "گھس بیٹھیوں" کو ملے گا،اگر رمضان میں بجلی موجود ہوتی ہے تو دیوالی پر بھی بجلی موجود رہے گی۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ "اتر پردیش میں کسی کو سڑک پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، مسجدوں کے مائیک بھی اتر گئے ہیں۔
بی جے پی راہنما سوامی نے کہا کہ اگر کسی ملک میں مسلمان 30 فیصد سے زائد ہوں، وہ ملک خطرے میں ہے۔
ایم ایل اے راجہ سنگھ نے کہا کہ بھارتی عوام کو کچھ خریدنا ہےتو ہندوؤں سے خریدے نہ کہ مسلمانوں سے۔
بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہمیشہ کے خلاف گمراہ کن پروپگینڈا کرتاہے،مقبوضہ وادی میں بدترین انسانی جرائم میں ملوث بھارت نے مسلم کش پالیسیز کے تسلسل میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا،بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا مسلمانوں کو غداربنا کر پیش کرتاہے، ہندوتوا کے مشتعل ہجوم کی طرف سے مسلمانوں اور انکی عبات گاہوں پر حملے معمول ہیں۔ بھارت میں ایک منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔