ویب ڈیسک :ناسا اور بوم سپرسونک کی طرف سے شائع ہونے والی ایک حیران کن تصویر سامنے آئی ہے۔ اس میں ساؤنڈ بیریئر ٹوٹنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تصویر اس وقت اتاری گئی جب پہلے امریکی سویلین سپرسونک طیارے نے اپنی دوسری پروازکے دوران Mach 1 سے بھی زیادہ رفتار اختیار کرلی۔ Mach 1 آواز کی رفتار ہے۔ یہ 1276 کلومیٹر فی گھنٹہ یا 761 میل فی گھنٹہ کی رفتارہوتی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ یہ تصویر XB-1 طیارے کی تیرہویں جامع آزمائشی پرواز کے دوران لی گئی تھی لیکن یہ دوسری بار تھا جب اس نے سپرسونک رفتار سے اڑان بھری۔ اس مرتبہ یہ ماچ 1.18 یا 772 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ گیا۔
زمین پر موجود NASA کی ٹیموں نے تجرباتی XB-1 طیارے کے ارد گرد جھٹکوں کی لہروں کو پکڑنے کے لیے Schlieren فوٹو گرافی کا استعمال کیا۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق بوم سپرسونک کے بانی اور سی ای او بلیک شول نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یہ تصویر غیر مرئی چیز کو ظاہر کر دیتی ہے۔
طیارے کی موجاوی صحرا کے اوپر پرواز کے دوران تصویر لی گئی
ان تصاویر کو حاصل کرنے کے لیے پائلٹ ٹرسٹان برانڈن برگ نے XB-1 طیارے کو مخصوص وقت کے دوران امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صحرائے موجاوی کے اوپر ایک مخصوص مقام پر رکھا۔ تصاویر کو زمینی دوربینوں کے ذریعے ایسے خصوصی فلٹرز کے ذریعے لیا گیا تھا جو ہوا کے بگاڑ کا پتہ لگاتے ہیں۔ ناسا کی ٹیموں نے پرواز کے راستے پر XB-1 طیارے سے پیدا ہونے والی آواز کی سطح پر بھی ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔
ریسرچ سے تجارتی پروازوں کیلئے راہ ہموار
کمپنی کے مطابق بوم سپرسونک کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ پرواز کے دوران کوئی قابل سماعت آواز زمین تک نہیں پہنچی۔ ریکارڈ میں لائے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مخصوص رفتار اور ماحول کے حالات میں آواز فضا میں ریفریکٹ ہوتی ہے اور کبھی زمین تک نہیں پہنچتی ہے۔ کمپنی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ اس دریافت سے ایسی تجارتی پروازوں کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے جو قابل سماعت آواز بنائے بغیر آواز کی رفتار سے زیادہ پرواز کر سکیں۔
سونک بوم کے نتیجے میں آنے والی تیز آوازوں کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی حکومتوں نے ان پر گنجان آباد علاقوں پر پابندی لگا دی ہے یا انہیں صرف سمندر کے اوپر پرواز کرنے تک محدود کر دیا ہے۔