ویب ڈیسک: پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت میں مودی پر تنقید کے نشتر جاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل سیاسی رہنما نےمودی پر سخت ترین تنقید کردی۔
سیاسی رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی کو وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیکر دوبارہ چائے بیچنی چاہیے۔ مودی تو اس دیس کے سب سے ناکارہ اور کمزور وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں۔ مودی نے 2016 میں دعوی کیا تھا کہ دہشتگردی ختم ہو جائے گی ۔آج 2025 ہے مگر دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی نے کہا تھا کہ ہم نے نہرو کی غلطی کو سدھار دیا اور سب ٹھیک ہو گیا ۔
سیاسی رہنما کا کہنا تھا کہ پھر 2019 میں پلوامہ کا حملہ ہوا اور سی آر پی ایف کے 40 جوان جان سے گئے۔ آج تک پلوامہ حملے کی انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ مودی کہتے ہیں کشمیر میں اتنی سکیورٹی ہے کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا پھر یہ 350 کلوگرام آر ڈی ایکس کہاں سے آگیا۔ مودی نے بھارتی فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر کمزورکردیا ہے۔اب بھارتی فوج میں ہندوتوا نظریے کے پیروکاروں کی ترقی ہوتی ہے ۔
سیاسی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ مودی 18، 18 گھنٹے کام کرتے ہیں کس کیلئے گوتھم اڈانی کیلئے۔ پہلگام واقعہ کے دوسرے ذمہ دار ہیں ہمارے امت شاہ۔ امت شاہ اپنا اصل کام کرنے کی بجائے دوسری ریاست میں سرکار بنانے کا سوچتے رہتے ہیں۔ امت شاہ حکومت سازی کیلئے قانون ساز رکن اسمبلی کو کروڑوں میں خریدنے کا سوچتے ہیں بس، سیاسی رہنما
اَب پَچھتائے کیا ہوت جَب چِڑیاں چُگ گَئیں کِھیت۔تیسرے ہیں سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول جو خود کو جیمز بانڈ کے پردادا سمجھتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنما کی گفتگو ثابت کرتی ہے کہ انتہا پسند مودی وزیراعظم کے عہدے کے لائق نہیں۔ایک انتہا پسند ہندو صرف ہندوتوا کے نظریے کی وجہ سے وزیراعظم بنے گا تو ملک کا یہی حال ہوگا۔اب وقت آگیا ہے کہ مودی، امت شاہ اور اجیت دوول کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔