ویب ڈیسک: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے اہم بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا پاکستان تحریک انصاف کی پیر کے روز میٹنگ ہوئی،ہم نے اس میں تین اہم فیصلے کیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کی طرف سے آنے والی قرارداد کو بغیر اعتراض کے قبول کرنے کا ارادہ کیا،ہم نے ملک کی خاطر اس قرارداد کو بغیر تبدیلی کے قبول کیا۔
دوسرا ہم نے ہندوستان سے تنازع کے باعث اجلاس کو واک آؤٹ کے بغیر شرکت کرنے کا کہا،تاکہ باہر دشمنوں کو ہمارے اتحاد کا پیغام جائے۔
تیسرا پنجاب میں اور اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے کیسز کی ڈیوٹیاں دی گئیں، لیکن پھر بھی ہم آج اجلاس میں حکومت کے ارکان سے زیادہ تعداد میں بیٹھے رہے،
یہ ہفتہ ہم نے ہندوستان کے خلاف اکٹھا ہونے کا ارادہ کیا، اس کے باوجود ہمارے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج ایک تاریک دن تھا، جس میں ارکان پر تشدد کیا گیا،عدالتیں بالکل بے اثر اور بے توقیر ہیں،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہمیں یقین دلایا کہ ملاقات کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس کے باوجود ہم پر ڈنڈے برسائے جا رہے ہیں،ہماری عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے،الیکشن کمیشن نے ہماری مخصوص نشستوں کو زور پر روک لیا،اعلیٰ عدلیہ نے ہمیں مخصوص نشستیں دینے پر فیصلہ کیا،لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی حکم عدولی کی گئی،دس مہینے گزر جانے کے باوجود ہمیں سیٹیں نہیں دی گئیں،پاکستان کے عوام لاچار ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے اب سب تحریک شروع کریں،تحریک کا آغاز خیبرپختونخوا سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیلے گا،پیکا کا کالا قانون ہو یا چھبیس ویں ترمیم، ہم اس سب کو ختم کریں گے۔
ملک دشمن ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے،لیکن ہمیں اپنے ملک میں تشدد اور بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عدالتوں، پارلیمان اور عوام کو بے اثر کر دیا گیا ہے،اب عوام کا غیص و غصے کا انکو سامنا کرنا پڑے گا۔