ویب ڈیسک: پنجاب دھماکوں نے بھارتی سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کردیا۔جالندھر بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے باہر ڈیلیوری اسکوٹر دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ مشتبہ آئی ای ڈی دھماکے سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکے میں ڈیلیوری رائیڈر اور بی ایس ایف اہلکار زخمی ہوئے۔ جالندھر دھماکے میں کسی ہلاکت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ خالصتان لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے حملہ مقتول شدت پسند کا بدلہ قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امرتسر خاصہ آرمی کیمپ کے قریب دوسرا دھماکہ بھی رپورٹ ہوا۔ پنجاب بھر میں سیکیورٹی سخت اور تحقیقات مزید تیز کردی گئیں۔
5 مئی 2026، دفاعی تنصیبات کے نزدیک دو کم شدت دھماکے رپورٹ ہوئے۔ بھارتی پنجاب بھر میں اس سے پہلے بھی 2026 میں آئے دن دھماکے ہو رہے ہیں۔ اپریل 2026، پٹیالہ ریلوے ٹریک کے نزدیک کم شدت دھماکہ رپورٹ ہوا۔ شمبھو اسٹیشن کے نزدیک بمبار ڈیوائس نصب کرتے ہلاک ہوگیا۔ خالصتانی ماڈیول، مبینہ آئی ایس آئی روابط اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم اپریل کو چندی گڑھ میں بی جے پی کے دفتر کےباہر دھماکہ رپورٹ ہوا۔ چندی گڑھ دھماکے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ اسی طرح جنوری 2026، سرہند نزدیک ریلوے ٹریک دھماکہ پیش آیا۔ مال بردار ٹرین متاثر جبکہ لوکو پائلٹ انیل شرما زخمی ہوا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت اپنی جبر پر مبنی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔ بی جے پی حکومت کے شدت پسند اقدامات نے پنجاب اور منی پور میں بےچینی بڑھائی۔ مشرقی پنجاب میں خالصتان گروپس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں راجھستان اور چندی گڑھ میں بھی دھماکے رپورٹ کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سیکورٹی اداروں نے متعدد سکھوں کو نام نہاد مقدموں میں گرفتار کیا ہوا ہے۔ کشمیر سمیت مختلف بھارتی ریاستوں میں اضطراب مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت کی اقلیتوں کے خلاف سخت ریاستی پالیسیاں ، نفرت اور عدم استحکام پیدا کررہی ہیں۔ بڑھتی علیحدگی پسند تحریکیں نئی دہلی کیلئے بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔ بھارت کا پاکستان کو الزام دینے کے بجائے اندرونی اصلاحات کرنا ہوںگی۔