ویب ڈیسک: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوگا۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام کے قیام پر اتفاق کیا جائے گا، جو جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنائے گا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے — افغان سرزمین سے پاکستان پر کسی قسم کی دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ مذاکرات اسی وقت ہوتے ہیں جب پیش رفت کا امکان ہو، بصورت دیگر یہ محض وقت کا ضیاع ہے۔”
انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان خطے کے امن و استحکام کے لیے دانش مندی سے فیصلے کریں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے تیسرے دور میں جنگ بندی کے نفاذ اور اس کی نگرانی کے نظام کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وفد میں انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان کے سفیر سہیل شاہین، انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو افغان حدود سے پاکستانی سرحد پر حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے بعد 19 اکتوبر کو دوحہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔
ترکیہ اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔
اس سے قبل 25 اکتوبر کو استنبول میں مذاکرات کا دوسرا دور طویل مشاورت کے باوجود کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگیا تھا، تاہم ترکیہ کی درخواست پر پاکستانی وفد نے مذاکرات کو ایک آخری موقع دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔