ویب ڈیسک: بہاولپور میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی قریبی بستیوں میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں متعدد مکانات گر گئے۔
تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال برقرار، بستی بھوکاں پتن اور بستی اللہ بخش کے حفاظتی پشتے ٹوٹ گئے جس کے بعد پانی بستی میں داخل ہوگیا جس سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔
دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے ضلع بہاولنگر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ اور رن وے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔
ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا اخراج ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا، ستلج بابا فرید پل اور بھوک پتن پل پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دریائی بیلٹ سے ملحقہ 143 دیہات متاثر ہوئے ہیں، سیکڑوں بستیاں سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئی ہیں، دریائی بیلٹ سے 117 ہزار سے زائد افراد نے اپنا انخلاء شروع کردیا ہے، 65 ہزار سے زائد جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
سیلاب متاثرین کیلئے ضلعی انتظامیہ نے 20 فلڈ ریلیف کیمپ اور خیمہ بستیاں قائم کر دی ہیں، متاثرین کو خوراک، طبی سہولیات، جانوروں کیلئے چارہ فراہم کیا جا رہا ہے، 110,000 ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں اور ہزاروں رہائشی مکانات سیلابی پانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔
دریائی بیلٹ میں بجلی کا نظام معطل، ضلعی انتظامیہ نے دریائی علاقے میں 34 اسکولوں کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا، پانی کے تیز بہاؤ سے درجنوں حفاظتی بند ٹوٹ گئے، سیلابی ریلے میں مواصلاتی راستے بہہ گئے، درجنوں چوکیاں، بستیوں کے زمینی راستے منقطع ہو گئے، جب کہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور جانوروں کیلئے خوراک کی قلت ہے۔