چین پر روسی تیل خریدنے پر ٹرمپ کے سخت ٹیرف کا عندیہ

چین پر روسی تیل خریدنے پر ٹرمپ کے سخت ٹیرف کا عندیہ
کیپشن: چین پر روسی تیل خریدنے پر ٹرمپ کے سخت ٹیرف کا عندیہ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے روس سے تیل کی درآمد جاری رکھی تو اس پر مزید سخت تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ بھارت پر پہلے ہی 50 فیصد ٹیرف نافذ کیا جا چکا ہے، اور چین کے لیے بھی اسی قسم کے اقدامات زیر غور ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں چین کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر سخت تحفظات ہیں اور اسی وجہ سے بیجنگ پر اضافی اقتصادی پابندیوں کا امکان موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روس پر کس نوعیت کے ٹیرف عائد کیے جائیں گے، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ روسی حکام کے ساتھ ان کی انتظامیہ کی بات چیت مثبت انداز میں جاری ہے اور جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات بھی کی، جسے کریملن نے تعمیری اور مفید قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ ان کی حکومت مائیکرو چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی درآمد پر تقریباً 100 فیصد ٹیرف لگانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ امریکہ میں صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے ایران کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام کی طرف پیش رفت کی تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے بھارت سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق بھارت روس سے براہ راست و بالواسطہ تیل درآمد کر رہا ہے، جو یوکرین جنگ کو ایندھن فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھارت کو غیر مؤثر تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے امریکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Watch Live Public News