بھارتی پرزوں سے لیس روسی ڈرون، یوکرین پر حملے کا نیا انکشاف

بھارتی پرزوں سے لیس روسی ڈرون، یوکرین پر حملے کا نیا انکشاف
کیپشن: بھارتی پرزوں سے لیس روسی ڈرون، یوکرین پر حملے کا نیا انکشاف

ویب ڈیسک: یوکرین پر روس کے حملوں میں بھارتی ساختہ پرزہ جات کے استعمال کا انکشاف سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر بھارت پر تنقید میں مزید شدت آگئی ہے۔

امریکی و یورپی رہنماؤں کی جانب سے پہلے ہی مودی حکومت پر روس کی بالواسطہ مدد کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن اب یوکرینی حکام نے روسی جنگی ڈرونز میں بھارتی پرزوں کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔

یوکرینی صدر کے چیف آف اسٹاف، اندریئی یرماک نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یوکرینی افواج نے ایسے روسی ڈرونز کی شناخت کی ہے جو بھارتی کمپنیوں کے تیار کردہ پرزوں سے لیس تھے اور انہیں یوکرین کی سرزمین پر شہری آبادی اور فرنٹ لائن پر حملوں میں استعمال کیا گیا۔ یرماک نے کہا کہ یہ معلومات یوکرینی انٹیلی جنس نے جمع کی ہیں، تاہم خبررساں ادارے رائٹرز نے اس کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جولائی میں روسی افواج نے یوکرین کے شہر خارکیو پر 103 فضائی حملے کیے، جن میں سے 81 حملے ’شاہد‘ نامی ڈرونز کے ذریعے کیے گئے۔ ان حملوں میں 164 افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

بھارتی اخبار "ہندوستان ٹائمز" نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ ڈرونز میں استعمال ہونے والے پرزے بھارت کی دو بڑی کمپنیوں، وشے انٹرٹیکنالوجی اور آورا سیمی کنڈکٹر، کے تیار کردہ ہیں۔ ان کمپنیوں کے الیکٹرانک پارٹس قانونی طور پر تیسرے ممالک کو برآمد کیے گئے، جو بعدازاں ایران منتقل ہو کر وہاں ڈرونز میں نصب کیے جا سکتے ہیں۔

گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے بانی، اجے سریواستو نے تسلیم کیا کہ اگرچہ بھارت کی حکومت دوہری استعمال والی اشیا کی ممنوعہ برآمد پر پابندی عائد کرتی ہے، مگر تیسرے ممالک کے ذریعے ان اشیا کی اصل منزل تک رسائی کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر روسی جنگی مشین کی حمایت کے الزامات لگا چکے ہیں۔ بورس جانسن نے بھارت کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی روس کو تیل کی خریداری کے ذریعے جنگی فنڈنگ فراہم کر رہا ہے، جبکہ ٹرمپ نے بھی روس سے قربت پر بھارت کو مزید سخت معاشی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔

ٹرمپ نے حالیہ دنوں بھارت پر مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کی بنیاد بھارت کی روس کے ساتھ جاری تجارتی سرگرمیوں کو قرار دیا گیا ہے۔

Watch Live Public News