(ویب ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایک شخص مسلسل ریاستی اداروں، خصوصاً پاکستان کی فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانیہ بنا کر دشمن قوتوں کے مفاد میں پروپیگنڈا چلا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اُس کی گفتگو میں فرسٹریشن، اشتعال اور ذاتی نفرت واضح ہے، جو اس کے ذہنی رویّے اور غیر ذمہ دارانہ سیاست کو ظاہر کرتی ہے،وہ بار بار ملک دشمن کردار شیخ مجیب الرحمٰن کو مثال بنا کر اس کے افکار کو فروغ دیتا رہا، جو اس کے اصل نظریاتی جھکاؤ کو بے نقاب کرتا ہے،اُس کے بیانیے کا مرکز و محور صرف فوج کو نشانہ بنانا، اس کی قیادت کو متنازع بنانا اور ریاستی ڈھانچے میں دراڑ ڈالنا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اُس کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے مگر اپنی گورننس اور کارکردگی پر بات کرنے کی بجائے فوج پر مستقل حملے کرنا اس کی سیاسی حکمت عملی بن چکی ہے، اُس نے کھلے عام remittances روکنے، آئی ایم ایف کو پاکستان سے معاہدہ نہ کرنے کے خطوط لکھنے اور ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی،عوام کو سول نافرمانی پر اُکسایا، بجلی کے بل نہ دینے کا کہا اور ملک میں انتشار ابھارنے کی کوشش کی، جو قومی سلامتی کے خلاف سنگین اقدام ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اُس نے اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، اور ہر قومی ایشو میں فوج کو گھسیٹنے کی کوشش کی،اُس نے فوج اور قیادت کو کمزور دکھانے کے لیے جھوٹ پھیلایا کہ فوج جنگ نہیں لڑ سکتی، صرف سیاست کرتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کو جب ہندوستان نے مساجد، مدارس، خواتین اور بچوں پر حملے کیے، تو فوج نے لڑ کر جواب دیا، ڈٹ کر کھڑی رہی، یہی وہ سچ ہے جسے وہ جھٹلاتا ہے، اگر اُس کی ذہنی منطق چلائی جائے تو اس کے مطابق اُس رات فوج لڑتی ہی نہ، حالانکہ فوج نے لڑ کر دکھایا اور دنیا نے تسلیم کیا، اُس نے تاریخی اور فیصلہ کن اقدامات کو متنازع بنانے کی کوشش کی، جبکہ انہی فیصلوں نے خوارج اور دشمن قوتوں کا بیانیہ توڑا،اُس نے فوج کی قیادت کو ٹارگٹ کر کے نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی منظم مہم چلائی، جو دشمن کے بیانیے سے مکمل مطابقت رکھتی ہے،۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اُس کی سیاسی بقا کا مرکز صرف فوج پر الزام لگانا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی قومی وژن، کارکردگی یا حکومت چلانے کی مثال موجود نہیں، وہ عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کا خواب دیکھتا ہے، جبکہ فوج اسی عوام میں سے آتی ہے، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے گھرانوں سے،فوج میں افسر اور جوان ایک ساتھ لڑتے، ایک ساتھ شہید ہوتے اور ایک ساتھ جنازے اٹھاتے ہیں، یہ یکجہتی اس کی سیاسی سازشوں سے نہیں ٹوٹ سکتی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وہ بیرونی قوتوں، خصوصاً ہندوستان کے پروپیگنڈا نکات، زبان اور انداز کو استعمال کر کے پاکستان میں غیر یقینی اور انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے،اس کا بیانیہ ان عناصر کے بیانیے سے ملتا ہے جو پاکستان کو کمزور، تقسیم اور غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،فوج نے کبھی کسی سیاسی شخص یا جماعت کو اس طرح نشانہ نہیں بنایا، جتنی وضاحت آج اس کے بارے میں کرنا پڑی، کیونکہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے،اس کے پھیلائے گئے پروپیگنڈا نے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اُس نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے پاکستان کے اداروں، ریاستی ڈھانچے اور قومی وحدت کو نشانے پر رکھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محض سیاست کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے،فوج ایک مضبوط، متحد اور منظم ادارہ ہے، ہم نے ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، ہم کھڑے ہیں، کھڑے رہیں گے، کہیں نہیں جا رہے، دشمن کے ساتھ سہولت کاری کرنے والے، چاہے اندر ہوں یا باہر، فوج کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، پاکستان کی فوج اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، فوج کھڑی ہے، ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، اور کہیں نہیں جارہی، ہم حق پر ہیں، حق پر کھڑے رہیں گے، اور دشمنوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔