ویب ڈیسک: امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جو آرمی ہیلی کاپٹر گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ایک مسافر طیارے سے ٹکرا گیا تھا، اس کی ٹریکنگ ٹیکنالوجی حادثے کے وقت بند تھی۔
تفصیلات کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے لیے ہوائی جہاز کی نقل و حرکت کو بہتر طریقے سے ٹریک کرنا ممکن بناتی ہے۔
ریپبلکن سینیٹر کروز امریکی سینیٹ کی کامرس، سائنس اور ٹرانسپورٹیشن کمیٹی کے رکن ہیں جنہوں نے امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے ساتھ حادثے کے بارے میں بند کمرے میں بریفنگ حاصل کی۔
نیویارک ٹائمز نے جمعرات کی رات کو اطلاع دی کہ کروز نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ بلیک ہاک کی ٹریکنگ ٹیکنالوجی تربیتی مشن کے دوران بند ہو گئی تھی۔
نیو یارک ٹائمز نے کہا، آٹومیٹک ڈیپنڈنٹ سرویلنس براڈکاسٹ یا اے ڈی ایس-بی نامی ٹیکنالوجی دورانِ استعمال ہوائی جہاز کی پوزیشن، بلندی اور رفتار نشر کرتی ہے۔
اخبار کے مطابق اس کی مدد سے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو مکمل طور پر صرف ریڈار ٹریکنگ پر انحصار نہیں کرنا پڑتا جس میں چند سیکنڈ کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس طرح یہ ایک اضافی حفاظت فراہم کرتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں دریائے پوٹومک پر فوجی ہیلی کاپٹر اور امریکن ایئرلائن کے علاقائی طیارے کے خوفناک تصادم میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ 20 سال سے زیادہ عرصے میں مہلک ترین امریکی فضائی حادثہ تھا۔