(ویب ڈیسک ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج بھی ہمارے میڈیا پر سنسرشپ موجود ہے، صحافت ایماندار اور صاف رہے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف کا کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 35 سالہ پارلیمانی کیئریر میں صحافتی برادری کی جدوجہد سیاسی برادری سے زیادہ رہی، صحافی تاریخ دان نہیں ہوتا بلکہ حالات حاضرہ کو بیان کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات کو ناظرین یا قارئین کے سامنے پیش کرنا صحافی کا کام ہے۔ موجودہ حالات میں لوگ بولتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں پہچانے نہ جائیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ تمام ادارے برباد ہو جائیں مگر صحافت آزاد رہے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔صحافت کی آزادی برطانوی جمہوریت کی بنیاد مانی جاتی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 9 مئی سے 6 فروری تک جو واقعات ہوئے ان پربات کرنے سے گریز کروں گا۔ سرکاری ٹیلی ویژن اپنے معیار کے حوالے سے بہت گر گیا ہے۔آج بھی ہمارے میڈیا پر سنسرشپ موجود ہے۔ صحافت ایماندار اور صاف رہے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔