(ویب ڈیسک ) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر آئی تھی آفر علی امین گنڈا پور لیکر آئے تھے۔
علیمہ خان نے عمران خان نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر آئی تھی آفر علی امین گنڈا پور لیکر آئے تھے۔اس پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا واقعی بنی گالہ ہاؤس اریسٹ کی آفر علی امین گنڈا پور لیکر آئے تھے،جس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں علی امین گنڈا پور ہی لیکر آئے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہا کہ میرا خیال ہے مذاکرات کرنے والے سنجیدہ نہیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف دو مطالبات سامنے رکھے ہیں، وہ2 سال سے کہہ رہے ہیں 9مئی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔ کیا بانی پی ٹی آئی کے مطالبات قابل قبول نہیں، جوڈیشل کمیشن کسی سینئر جج کے نیچے بنائیں جو سب کو قابل قبول ہو۔
علیمہ خان نے کہا کہ ن لیگ کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں جو ہمیں آرڈر آئے گا ہم وہی کرینگے، رول آف لاء اور جمہوریت کے اندر جوڈیشل کمیشن ہی بنتے ہیں، اس وقت ہمیں عدلیہ پر اعتماد کرنا ہے ان پر اعتماد نہیں کرینگے تو کیا کرینگے، بول بول کے تھک گئے جوڈیشل کمیشن بنائیں، قیدیوں کو رہا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بھائی ڈیڑھ سال سے جیل میں بیک ڈور ڈیل کرنی ہوتی تو کرچکے ہوتے، پہلے دن سے ڈیل کی آفرز آرہی ہیں لیکن براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا، ہر بندہ ڈیل کی خبریں دے رہا ہے، کوئی کہتا ہے تین سال خاموش رہنے کا کہا ہے کوئی کچھ کہتا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو یہ بھی کہا گیا چپ رہو منہ نہ کھولو، مذاکرات چلانے ہیں تو چلائیں روکا کس نے ہے، جیل کے اندر ملاقاتیں کرانے کیلئے صبح سات بجے دروازے کھلتے ہیں ، اب کیوں مذاکراتی کمیٹی کو ملنے نہیں دے رہے، فیصلہ تو عمران خان نے کرنا ہے کمیٹی ملے گی تو کوئی بات ہوگی، جو لوگ حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہیں انہوں نے تو ہمارا مینڈیٹ چرایا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے پہلے یہ سنجیدگی دکھائیں پھر دیگر مطالبات پر بات ہوگی، آج بانی پی ٹی آئی سے صرف فیملی معاملات پر بات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی ائیر کموڈور سجاد حیدر کو یاد کررہے تھے، بانی نے کہا سجاد حیدر وار ہیرو تھے انہوں نے کھڑے ہوکر ووٹ ڈالا۔