ویب ڈیسک: گلگت بلتستان میں آج اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہی۔جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شفاف اور پرامن انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے 7,678 افراد پر مشتمل انتخابی عملہ اور 12 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اسکردو میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فونز اور ریکارڈنگ ڈیوائسز لے جانے پر مکمل پابندی ہے۔ اس پابندی سے صرف الیکشن کمیشن کے اجازت نامہ ہولڈر میڈیا نمائندے اور مبصرین مستثنیٰ ہیں۔
حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ 24 براہ راست نشستوں کے لیے 400 سے زائد امیدوار، جن میں 8 خواتین شامل ہیں، انتخابی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔
گلگت بلتستان میں کل 9 لاکھ 63 ہزار ووٹر رجسٹرڈ ہیں، جن میں 5 لاکھ 6 ہزار مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار خواتین شامل ہیں۔ اسمبلی میں کل 33 نشستیں ہیں، جن میں سے 24 براہ راست منتخب ہوں گی، 6 خواتین کے لیے مختص ہیں اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔
انتخابی حلقوں کے لحاظ سے دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں، جہاں ہر ضلع میں چار چار حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں تین تین، جبکہ نگر اور استور میں دو دو حلقے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع میں ہر ایک ضلع کے لیے ایک ایک حلقہ مختص ہے۔