ویب ڈیسک: (علی زیدی) بزدل بھارت نے گزشتہ رات پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارت کے بزدلانہ حملے پر پاکستان نے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔ جس کے نتیجہ میں بھارتی فوج 3 رافیل طیاروں سمیت 5 طیاروں سے محروم ہوگئی۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کو گزشتہ رات کی کارروائی میں 944 ملین ڈالر کا نقصان صرف طیاروں کی تباہی کی مد میں برداشت کرنا پڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی فضائیہ کا غرور تو پاکستانی شاہینوں نے خاک میں ملا دیا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار 944 ملین ڈالر (لگ بھگ 78 ارب بھارتی روپے) سے اپنے ملک کے عوام کی فلاح کیلئے کیا کچھ کرسکتی تھی۔
بھارت جیسے گنجان آباد ملک میں جہاں کروڑوں افراد آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں 944 ملین ڈالر (تقریباً 78 ارب بھارتی روپے) کی رقم ایک ایسی تبدیلی لا سکتی تھی جس کے اثرات نسلوں تک قائم رہتے۔ مگر افسوس کہ یہ رقم دفاعی اخراجات یا دیگر تنازعات پر صرف ہو گئی۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے رفع حاجت پر مجبور ہیں۔
اتنی بڑی رقم میں کتنے واش روم بنائے جا سکتے تھے؟
بھارتی حکومت کی "سچتا ابھیان" (Swachh Bharat Mission) کے تحت 2014–2019 کے دوران دیہی علاقوں میں ایک بیت الخلا بنانے پر اوسط لاگت تقریباً 12,000 سے 15,000 بھارتی روپے (تقریباً 150–180 امریکی ڈالر) آئی۔
اب اگر ہم 944 ملین ڈالر کو اس اوسط سے تقسیم کریں تو:
944,000,000 ÷ 180 = تقریباً 5.2 ملین (52 لاکھ) بیت الخلا
یعنی 944 ملین ڈالر سے پچاس لاکھ سے زائد دیہی خاندانوں کو ذاتی واش روم کی سہولت فراہم کی جا سکتی تھی۔ جو کروڑوں افراد کی صحت، وقار اور زندگی کے معیار میں بہتری لا سکتا تھا۔
کھلے میں رفع حاجت کا مسئلہ اور اس کے اثرات
کھلے میں رفع حاجت نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہے بلکہ یہ کئی بیماریوں جیسے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور بچوں میں غذائی قلت کا سبب بنتی ہے۔ خواتین کے لیے یہ مسئلہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے، جہاں انہیں جنسی ہراسانی اور غیر محفوظ ماحول کا سامنا ہوتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے قبل بھارت میں تقریباً 55 کروڑ افراد کھلے میں رفع حاجت کرتے تھے۔ اگر ان میں سے محض 10 فیصد لوگوں کو بھی اس رقم سے بیت الخلا فراہم کیے جاتے تو یہ ایک سماجی انقلاب کی بنیاد رکھتا۔
حقیقت پسندی یا ترجیحات کا سوال؟
یہ سوال اب ہر ذی شعور بھارتی شہری کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر کیوں ایسی بڑی رقم کا رخ بنیادی سہولیات کی طرف موڑنے کے بجائے ایسی سرگرمیوں پر کیا گیا جن کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں؟ تعلیم، صحت، صاف پانی، اور سینیٹیشن جیسے شعبے آج بھی بجٹ کی کمی کا رونا روتے ہیں، جبکہ عسکری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ترجیحات بدلے بغیر ترقی ممکن نہیں
944ملین ڈالر کا مطلب صرف ایک عدد نہیں، یہ کروڑوں انسانوں کی زندگی میں بہتری کا موقع تھا، جو ہاتھ سے نکل گیا۔ اگر ریاستیں اپنی ترجیحات میں تبدیلی نہ لائیں تو بلند بانگ دعوے صرف اشتہار بن کر رہ جاتے ہیں۔