پاکستان بھارت کشیدگی: 1999 سے 2025 تک بڑے عسکری و سفارتی تنازعات کا جائزہ

پاکستان بھارت کشیدگی: 1999 سے 2025 تک بڑے عسکری و سفارتی تنازعات کا جائزہ
کیپشن: پاکستان بھارت کشیدگی: 1999 سے 2025 تک بڑے عسکری و سفارتی تنازعات کا جائزہ

ویب ڈیسک: پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں، جن میں تین باقاعدہ جنگوں کے علاوہ سرحدی جھڑپیں، دہشت گرد حملے، فضائی کارروائیاں اور سفارتی تناؤ شامل ہیں۔ ان دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتی رہی ہے۔

ذیل میں 1999 کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم تنازعات، حملوں اور سفارتی کشیدگیوں کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔

 مئی تا جولائی 1999 — کارگل جنگ

کارگل کی پہاڑیوں میں ایک غیر اعلانیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب پاکستانی فوجی دستے بھارتی چوکیوں پر قابض ہو گئے۔ شدید لڑائی کے بعد بھارت نے اپنی پوزیشنیں دوبارہ حاصل کیں۔ امریکا نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈال کر انخلاء ممکن بنایا۔

 دسمبر 2001 — بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ

بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے الزام جیش محمد اور لشکرِ طیبہ پر لگایا، جس کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔

 نومبر 2008 — ممبئی حملے

دس دہشت گردوں نے ممبئی کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں 166 افراد جاں بحق ہوئے۔ بھارت نے پاکستان سے تمام مذاکرات معطل کر دیے، جو بعد میں وقتی طور پر بحال ہوئے۔

 جنوری 2016 — پٹھان کوٹ ایئربیس حملہ

پاکستان کی سرحد کے قریب واقع بھارتی ایئربیس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں پانچوں حملہ آور اور دو بھارتی اہلکار مارے گئے۔ امن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔

 ستمبر 2016 — اوڑی حملہ اور ’ سرجیکل اسٹرائیکس‘ کا دعویٰ

اوڑی سیکٹر میں فوجی اڈے پر حملے میں 18 بھارتی فوجی مارے گئے۔ بھارت نے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کیا جبکہ پاکستان نے ایسی کسی بھی کارروائی کی تردید کی۔

 فروری 2019 — پلوامہ حملہ اور بالا کوٹ کارروائی

کشمیر کے علاقے پلوامہ میں خودکش حملے میں 40 بھارتی اہلکار مارے گئے۔ بھارت نے جوابی کارروائی میں بالا کوٹ میں فضائی حملہ کیا، جس میں اپنا ایک طیارہ بھی گنوا بیٹھا۔ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو حراست میں لینے کے بعد خیرسگالی کے تحت واپس کر دیا۔

 اگست 2019 — کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

بھارت نے آئین کی دفعہ 370 منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے سفارتی تعلقات کم کیے اور تجارت بند کر دی۔

 اپریل 2025 — کشمیری سیاحوں پر حملہ اور نئی کشیدگی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 26 ہندو سیاح ہلاک ہوئے، جس پر بھارت نے الزام پاکستان پر لگایا۔ پاکستان نے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی معطل کر دی
پاکستان نے ہر قسم کی دوطرفہ تجارت معطل کر دی
فضائی کمپنیاں ایک دوسرے کی حدود سے محروم
ویزے منسوخ، تعلقات سرد مہری کا شکار

مئی 2025 — بھارتی فضائی کارروائی اور پاکستان کا جواب

بھارت کی جانب سے فضائی حملے کے بعد پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کر دیا، جس کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول پر سفید جھنڈا لہرا دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

 خطے کا امن بدستور خطرے میں

پاکستان اور بھارت کے درمیان بار بار کی کشیدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اور دیرپا امن کے لیے دونوں ممالک کو سنجیدہ مذاکرات، تحمل اور عالمی قوانین کی پاسداری اپنانی ہوگی۔ بصورت دیگر، ہر نیا تنازعہ خطے کو جنگ کے دہانے پر لے آتا ہے۔

Watch Live Public News