ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے پاکستان پر حالیہ حملے کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چین، اقوام متحدہ، امریکا اور متحدہ عرب امارات نے بھارتی جارحیت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے، بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ "ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جو خطے میں سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔"
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے، جسے مزید کشیدہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بیان میں کہا کہ موجودہ کشیدگی انتہائی حساس نوعیت کی ہے اور اس کا پائیدار حل صرف سفارتکاری میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو اے ای خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بھارت کی کارروائی کو "شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی حرکتیں خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عالمی سطح پر یہ پہلا سخت ردعمل امریکی صدر کی جانب سے آیا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کے بعد بھارت نے عرب ممالک، بالخصوص یو اے ای سے رابطے کر کے کشیدگی کم کرانے کی درخواست کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ عرب دنیا پاکستان پر اثرانداز ہو کر کشیدگی کم کرائے، تاہم پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ دفاع میں جواب دینا اس کا حق ہے اور کسی دباؤ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی بھارتی جارحیت سے آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری کو مطلع کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور جوابی کارروائی کا وقت اور مقام پاکستان خود طے کرے گا۔