ویب ڈیسک :بہت کم لوگ ایسے ہیں جو تل کھانے کے صحت کے فوائد کے بارے میں نہیں جانتے۔ لیکن فوگ اور اسموگ س کے برے اثرات سے نمٹنے کے لئے یہ جادواثر ڈش ہے۔
تل کو کھانوں میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے کلچے پر تل لگانے سے لے کر سلاد پرگارنش کرنے تک اس کے استعمال کے مختلف طریقے ہیں ۔ تاہم اس کی گرم نوعیت کی وجہ سے اسے خاص طور پر سردیوں میں کھایا جاتا ہے۔ اور بچوں بڑوں کے لیے ایک مقبول ڈش ہے۔
اپنے گرم مزاج کی وجہ سے تل ہمارے جسم کو اندر سے گرم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، تل میں پروٹین، فائبر، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، فاسفورس اور وٹامن بی موجود ہوتے ہیں جو کہ جسم کی مجموعی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ لہٰذا تل کو بہت سی خوبیوں سے بھرپور ایک سپر فوڈ سمجھا جاتا ہے۔
اسموگ کےبد اثرات:
اسموگ کے برے اثرات یعنی کھانسی ، گلا خرابی ، زکام نزلہ سے بچنے کے لئے ہر شام کےکھانے کے بعد آدھا چھوٹا چمچ سفید تل اور آدھا چھوٹا چمچ سفید زیرہ ملا کر استعمال کریں ۔ اس کے استعمال سے پھیپھڑوں پر جمی بلغم آسانی سے خارج ہوجاتی ہے۔ یہ نہ صرف کیلشیم کا اچھا سورس ہے بلکہ اسموگ کے برے اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
بلڈ شوگر کنٹرول:
شوگر کے مریضوں کے لیے تل کا استعمال فائدہ مند ہے۔ تل کے بیج پروٹین اور فائبر کا ایک اچھا ذریعہ ہیں، یہ دونوں بہت اہم غذائی اجزاء ہیں۔ اس لیے یہ بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں کھانے سے خون میں گلوکوز کی سطح اچانک نہیں بڑھ جاتی۔ تل کے بیجوں میں میگنیشیم بھی زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کو میگنیشیم کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، یعنی یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
ہاضمے کو بہتر کرتا ہے:
تل کے بیج فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو کہ ہاضمے کو بہتر کرنے میں مدد کرتا ہے، یہ قبض جیسے مسائل کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔
ہڈیوں کی مضبوطی:
تل کے بیج کیلشیم، میگنیشیم اور زنک سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں اور آسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرتے ہیں، اس لیے ہمیں سردیوں میں تل کا استعمال کرنا چاہیے۔